جرنیلی سڑک

 

007_93042_9776

جرنیلی سڑک
مصنف کا نام ۔۔ رضا علی عابدی
کتابی ضخامت۔۔ 316 صفحات
ایک منفردکتاب، بہترین رنگین سرورق اور عنوان اس قدر خوبصورت جو کسی بھی کتاب دوست کی توجہ کھینچنےکے لیے کافی ہے۔سرورق پر ایک طویل شاہراہ اور گھوڑے پر بیٹھے اِک شاہسوار کی تصویر ہے۔اور حدِ نظر تک راہ، راستہ اور منزل تک پہنچنے کے لیےسفر، مسافر اور مسافت کاتاثر ابھرتا ہےجو اتنا مضبوط اور دلکش ہے کہ کسی بھی بک سٹور، کتاب میلے، لائبریری اور آن لائن ریڈر کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔اسکے ساتھ عنوان کو دیکھا جائے تو یہ نسیم حجازی کے کسی تاریخی ناول کی عکاسی کرتا ہے۔جیسے داستانِ مجاہد، شاہین اور آخری چٹان وغیرہ( کتاب کے پرانے بلیک اینڈ وائٹ ایڈیشن کے سرورق پر۔۔ صحرا، قلعہ اور اسکے پیچھے پہاڑیوں کا منظر ہے۔وہ ٹائیٹل سرورق بھی خوب تھا جیسے مسافر آگے بڑھتے بڑھتے رک کر ان ریگزاروں کو دیکھنے لگا ہو)
شیر شاہ سوری کی جرنیلی سڑک ۔۔اب اپنی پہچان آپ بن چکی ہے۔سرورق پہ سفرنامہ لکھا ہے لیکن پیش لفظ میں مصنف نے لکھا ہے کہ کبھی کبھی اس پہ تاریخ کی داستانوں کا گماں ہو گا۔۔لیکن یہ بات کتاب پڑھ کر قاری خود طے کرتا ہے۔اوّل تو وہ انتساب میں لکھے اس شعر کی روشنی میں آگے بڑھتا ہے اور پہلے باب تک پہنچتا ہے۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہیں !

پڑھنا جاری رکھیں اس لنک کے ذریعے،

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=93042