گردابر (سپین کے پاک سہارا انٹرنیشنل میگزین میں پبلش تحریر)

20141228_203429

گردَابر

گردابر ۔۔۔!
پہلے میں بھی اسے نہیں جانتی تھی لیکن اب اچھی طرح جان گئی ہوں۔۔۔
بچپن میں ایک بار امی مجھے لے کر گاؤں گئیں۔ وہاں ان کے بہت ساری زمینوں، مربعوں کے مالک، گاؤں کے نمبردار رشتے دار رہا کرتے تھے۔ ایک دن وہ مجھے لے کر اپنے کسی رشتے دار کے گھر ملنے گئیں۔گاؤں میں ان سب کے گھر بہت بڑے بڑے اور صحن بھی کھلے کھلے سےتھے۔جن میں ایک طرف رہائش، چولہا چوکا اور دوسرے حصے میں جانور ہوا کرتے تھے۔ یہ بہاولپور کا علاقہ تھا۔۔چولستان کے قریب، ریگستانی علاقہ۔۔جہاں لوگ مال مویشی، جانور بہت رکھا کرتے تھے ۔گائے، بھینسوں کے علاوہ اونٹ، گھوڑے رکھنا ان کے لیے عام سی بات تھی جنہیں وہ سواری کے علاوہ کھیتی باڑی میں بھی استعمال کرتے تھے۔۔
امی مجھے لے کرجیسے ہی اس گھرمیں داخل ہوئیں تو اس گھر کی عورتیں صحن میں ہی موجود تھیں۔ وہ امی سےتپاک سے مل کر باتیں کرنے لگیں۔ تب میں کافی کم عمر تھی، یہی کوئی چار پانچ سال کی ۔۔ پہلے تو میں امی سے چپکی رہی۔ پھر آہستہ آہستہ بور ہونے لگی تو ان سے ذرا ہٹ کرصحن میں گھومنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتےمجھے ایک نئی مصروفیت مل گئی۔۔لاہور جیسے بڑے شہر سے ہٹ کر ایک علیحدہ ہی ماحول ۔۔منفرد نظارے، ذرا کھُل کھیل کے۔۔ میں ان کے گھر میں موجود مرغیوں کے پیچھے بھاگنے لگی۔ مجھے یہ کام بڑا دلچسپ لگا۔۔ پھر جا کر بکری کو چارہ کھلانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ بس انھی معصوم حرکتوں کے ساتھ نہ جانے مجھ سے کیسے چُوک ہو گئی کہ میں گائے بھینسوں کے ساتھ بندھے ہوئےاونٹ کو نظر انداز کر گئی۔۔ میں جب بھی اسے دیکھتی تو وہ مجھے اپنی طرف ہی دیکھتا محسوس ہوتا۔۔ شائد مجھے اس کا اس طرح دیکھنا بُرا لگا۔۔ میرے ہاتھ میں اس وقت ایک چھڑی تھی جسے لے کر میں مرغیوں کی دوڑیں لگوا رہی تھی۔ میں نے وہی چھڑی ہاتھ اوپر بلند کر کے زور زورسے ہلا کر اونٹ کو دکھائی اور بول بول کر اسے وارننگ بھی دی کہ آنکھیں نیچی کرو، باز آ جاؤ۔۔ میری طرف مت دیکھو ؟
تواونٹ جو آرام سےبیٹھا ہوا ایک باردائیں اور دوسری بار بائیں جبڑے ہلاتا ہواجگالی کر رہا تھااور میری بھاگ دوڑ ملاحظہ فرما رہا تھا۔ یکدم بچھو لڑ گیا کے مصداق۔۔ تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور جس کھونٹے سے بندھا ہوا تھا اس کے گرد تیزی سے چکر کاٹنے لگا۔۔اس کا انداز یہ تھا کہ مجھے کھول دو اور پھر دیکھو۔۔ یہ دیکھ کر امی جان گھبرا گئیں اور فورا آ کر مجھے اپنے قریب کر لیا اور گھر کی وہ عورتیں مجھ سمیت امی کو لے کر اندر کمرے میں چلی گئیں۔میں نظر سے اوجھل ہوئی تو اونٹ کچھ دیر مزید چکر کاٹنے کے بعد ذرا پُرسکون ہو گیا۔ امی جان کو کچھ دیر پریشانی ہوئی کیونکہ کہتے ہیں اونٹ ایک کدورت، دشمنی رکھنے والا جانور ہےلیکن اپنی رشتے دار عورتوں کے تسلی، دلاسہ دینے پہ پھر وہ بھی بھول گئیں اور باتوں میں مگن ہو گئیں۔۔
امی جان پندرہ، بیس دن وہاں گاؤں میں رہیں اور پھر واپسی کی تیاری ہوئی۔ واپسی کی تیاری کچھ یوں ہوتی تھی کہ ایک بار پھر جا کر سب رشتے داروں سے الوداعی ملنا ہوتا تھا۔۔ اس دن پھر امی مجھےاورخالہ کو ساتھ لے کر تمام رشتے داروں کو مل رہی تھیں۔ سب سے ملتے ملاتےآخر میں وہ اس اونٹ والے گھر میں داخل ہوئیں۔۔اپنے قیام کے دوران اتنے رونق میلے میں وہ اونٹ والی بات بھول چکی تھیں سو بے فکری سے خالہ سے باتیں کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھیں۔۔


جیسے ہی ہم اس گھر کے اندر داخل ہوئے۔ ابھی ان کے صحن کے درمیان ہی میں پہنچے تھے۔۔اور اتفاقا ان کا وہ اونٹ اس دن بھی گھر میں ہی موجود تھا کہ اس اونٹ نے ہمیں دیکھ لیا، بلکہ خاص طور پر مجھے دیکھ لیا۔۔ معاذ اللہ، اونٹ نے مجھےدیکھتے ہی فورا پہچان لیا ۔۔بس پھر کیا تھا، وہ اپنی جگہ پر تیزی سے چکر کاٹنے لگااور منہ سے خوفناک آوازیں نکالنے لگا۔ اس گھر کی عورتیں اس وقت صحن میں ہی کام کر رہی تھیں لیکن ابھی ہم سے کچھ فاصلے پر تھیں۔۔دھوپ سے بچنے کے لیے وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ کا چھجہ بنائے اونٹ کے شور شرابے پر اچانک نمودار ہونے والی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اونٹ کے ایک دم خوفناک اور دہشت ناک آوازیں نکالنے پر امی اور خالہ بُری طرح گھبرا گئیں اور ان کے قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے۔دیکھتے ہی دیکھتے اونٹ اتنا غصے میں آ گیا کہ اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔ ۔جسے امی بعد میں بلبلے کہہ رہی تھیں اور مجھے وہ ۔۔ غبارے۔۔ لگ رہے تھے۔ ویسے وہ غبارے مجھے آج بھی یاد ہیں۔۔
اتنے میں اونٹ کے تیزی سے گھومنے اور چکر کاٹنے کی وجہ سے اس کے کھونٹے کی رسی ڈھیلی پڑ گئی اور اب کھلی کہ تب کھلی والی صورتحال پیدا ہو گئی۔۔تب امی اور خالہ کو ایک دم ہوش آیا۔۔پہلے غالبا وہ اس امید میں تھیں کہ شائد اس گھر کی عورتیں اونٹ کو پچکار لیں گی۔۔لیکن وہ بیچاری خود ہکا بکا کھڑی اونٹ کے رنگ ڈھنگ دیکھ رہی تھیں۔۔اتنے میں امی اور خالہ نے مجھے پکڑا اور چیختی، چلاتی، شور مچاتی ہوئیں ان کے صحن میں بھاگنے لگیں اوردیکھتے ہی دیکھتے گھر والوں کی نظروں کے سامنے انھی کے گھر کے ایک کمرے میں گھس کر روپوش ہو گئیں اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔۔
ادھر اونٹ نے اسی پندرہ، بیس سیکنڈ کے عرصے میں اپنے آپ کو رسی، کھونٹے سے آزاد کر لیا۔۔کھونٹے سے آزاد ہو کر وہ پورے صحن میں اِدھر اُدھر بھاگنے لگا (پگلا کہیں کا) جو باقیوں کے کہنے کے مطابق وہ۔۔ مجھے۔۔ ڈھونڈ رہا تھا۔۔ منہ سے غبارے پھلاتا، دہشتناک آوازیں نکالتا وہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک جا رہا تھا بلکہ صحن کے جس حصے میں اسے جانے کی اجازت نہیں تھی وہ وہاں بھی بھاگ رہا تھا یعنی میرا تیا پانچا کرنے کو۔۔ وہ ۔۔اتنا بے قرار تھا۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ وہ گھر کی عورتوں اور بچوں کو کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔جبکہ وہ اونٹ کی اس بے وقت کی آفت و راگنی پہ حیران و پریشان ہو رہی تھیں۔۔اور اونٹ کی بھاگ دوڑ دیکھ رہی تھیں۔۔ اب گھر والے باہر تھے اور امی اور خالہ مجھ سمیت انھی کے گھر کے کمرے میں گوشہ نشین ہو چکی تھیں۔۔
اونٹ کے رنگ ڈھنگ ابھی جاری تھے کہ اس صورتحال کو قابو کرنے کا خیال آیا۔ اتنی دیر میں شور شراباسن کر آس پاس کے پڑوسی بھی چھتوں پر آ کر یہ نظارہ دیکھنے لگے تھے۔ اب اونٹ کو قابو کرنے کے لیے کسی۔۔مرد ۔۔ کی ضرورت تھی کیونکہ یہ عورتوں کے بس کی بات نہ تھی۔۔دوپہر کا وقت تھا اس وقت زیادہ مرد حضرات گھر پر نہیں ہوا کرتے تھے۔وہ کھیتی باڑی کے سلسلے میں اپنے مربعوں، زمینوں پر ہوتے تھے۔بہر حال پھر یہ بات آگ کی طرح پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ ۔اس وقت پوزیشن یہ تھی کہ پڑوسی چھتوں پہ کھڑے تھے۔ گاؤں کے لوگ گھر کی اونچی دیواروں سے جھانک رہے تھے،لٹک رہے تھے۔گھر والے صحن میں تھے۔ امی اور خالہ مجھے لے کر حجرہ نشین تھیں۔۔اِک ہنگامہ تھا جو برپا تھا۔۔
پھریہ بات گولی کی طرح آس پاس کے کھیتوں اور مربعوں میں پہنچ گئی اور بہت سارے مرد بھی آنا شروع ہو گئے۔۔باری باری گاؤں کے کئی مردوں نے آ کر اونٹ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔۔اس اجتماعی ناکامی کے بعد سب کی زبان پرایک ہی نام آیا۔۔
گردَابر کو بلاؤ۔۔۔ گردابر کو بلاؤ۔۔،
تب پہلی بار یہ نام سننے میں آیا تھا۔۔
گردابر۔۔ جی ہاں ، ایک چولستانی مرد۔۔!
جس کی بہادری پہ کسی کو بھی شک و شبہ نہ تھا۔ جو اونٹوں کی فطرت جانتا تھا، ان کی نس نس سے واقف تھا اور اونٹوں پر قابو پانا جانتا تھا۔ اس وقت وہ شہر میں احمدپور شرقیہ میں تھا۔ اب اک جہان اس کے انتظار میں نظریں بچھائے ہوئے تھا۔۔در و دیوارسےچپکاہوا تھا۔ سو اس تک فوری پیغام پہنچایا گیا اور تین، چار گھنٹوں کے انتظار کے بعد وہ پہنچ گیا۔۔تو محفل ابھی جوان تھی۔۔اونٹ اتنا بپھرا ہوا تھا کہ گردَابر کے لیے بھی اِک امتحان کھڑا تھا۔ کافی ہوشیاری اور محنت کے بعد مشتعل اونٹ پر اس نے قابو پا ہی لیا اور اسے نکیل ڈال دی۔ ۔مجھے اس گھرسے چادر میں چھپا کر باہر لایا گیا تا کہ اونٹ کی مجھ پر نظر نہ پڑ سکے۔۔پھر امی اپنے قیام کے آخری جو ایک دو دن وہاں رہیں تو سب نے مجھے اپنی حفاظت میں اونٹ کی آنکھوں سے اوجھل رکھا۔۔اور جب لاہور واپسی ہوئی تو ٹرین میں بیٹھ کر امی جان نے سکون کا سانس لیا ۔۔ گردابر کو ڈھیروں دعائیں دیں۔۔ اور پیچھے رشتہ داروں نے بھی شکر ادا کیا۔۔
لاہور واپسی پر یہ قصہ جان کر والد صاحب بہت فکرمند ہوئے۔ ۔پھر دوبارہ جب بھی وہاں جانا ہوا تو ابو لازمی ساتھ جاتے اور ہر وقت مجھے اپنی کڑی نگرانی میں رکھتے۔۔کہ اونٹ کی دشمنی بڑی بُری ہوتی ہے جس کی ایک جھلک تو پورا گاؤں دیکھ چکا تھا۔۔ حالانکہ آپ خود سوچیں ،میں نے بھلا ۔۔کیا۔۔کیا تھا۔ صرف ایک چھوٹی سی چھڑی ہی تو دکھائی تھی۔ باقی ساری ۔۔آفت۔۔ تو اس اونٹ نے مچائی تھی۔۔
اس واقعہ کے بعد میں جب بھی بہاولپور گاؤں گئی اور کبھی گردَابر مجھے دیکھ لیتاتو مسکرانے لگتا۔۔اس وقت مجھے اس کامسکرانا کچھ اچھا نہ لگتا کہ۔۔ لو! اب جان بچائی ہے تو کیا ساری زندگی احسان جتاؤ گے۔۔ مجھے دیکھ کر یونہی مسکراؤ گے۔۔ مجھے کبھی اس اونٹ کو بھولنے نہ دو گے۔۔مانا تمھاری اونٹ سے دوستی ہو سکتی ہے لیکن میری تو نہیں۔۔سو مجھے اس خوفناک پڑاؤ سے آگے بڑھ جانے دو۔۔ سب کہتے کہ گردابر نے تمہارے لیے آ کر اونٹ کو قابو میں کیا ورنہ وہ تو تمہاری جان کے درپے تھا۔۔ سو اسے دیکھ کر مجھے اونٹ یاد آ جاتا۔۔اب سوچتی ہوں تو من میں پھلجڑی چھوٹتی ہے کہ اس کا مسکرانا بے معنی نہ تھا ، شائد کیا یقینا وہ سوچتا ہو گاکہ لاہور کی کُڑی نےکہاں آ کر اونٹ سے پنگا لے لیا۔۔ویسے میرے لاہور چلےآنے کے بعد بھی وہ اکثر وہاں رشتے داروں سے میرا حال پوچھا کرتا تھا۔۔
اس چولستانی آدمی کا نام بڑا منفرد تھا۔۔ گردابر ۔۔ جو بہادر ہونے کے علاوہ بھی بڑے کام ، گنوں کا آدمی تھا۔۔ اس لیے زمین کا معاملہ ہو یا خصوصا جانوروں ، اونٹوں کے معاملے میں کوئی مشکل، اڑچن ہوتی تو ماموں فورا کہا کرتے ،
:جاؤ، جلدی سے گردَابر کو بلا کر لاؤ۔۔:
وہ بھی ماموں کی بہت عزت کیا کرتا۔ پیغام ملتے ہی فورا بوتل کے جن کی طرح حاضر ہو جاتا۔ اور اس جن کو کیسے خوش رکھنا ہے یہ ماموں بھی اچھی طرح جانتے تھے۔۔
گردابر۔۔ کی حیثیت گاؤں اور شہر میں کسی ہیرو سے کم نہ تھی۔۔کیونکہ اس کا ایک پاؤں گاؤں میں ہوا کرتا تھا تو دوسرا بہاولپور کے نواحی شہر احمد پور شرقیہ میں ۔۔ کیونکہ بہاولپور تو ضلع تھا نا۔۔خالص چولستانی مرد کا حلیہ تھا اس کا۔ اونچا لمبا قد، تانبے جیسی رنگت،مضبوط گٹھا ہوا جسم، سر پہ بڑی سی پگڑی ، ذہین آنکھیں،با رعب مونچھیں، چہرے پر جرات،نڈر پن کی چھاپ۔۔سرائیکی زبان۔۔اور اونٹوں کی نفسیات کا ماہر۔۔ ( اونٹ بھی اس سے پناہ مانگتے ہوں گے)بہرحال سب کو وہ ہر فن مولا قسم کا شخص بڑااچھا لگا کرتا تھا اور لگنا بھی تھا کیونکہ اس کی بہادری سب کو مرعوب کر چکی تھی۔۔ اس لیے وہ بڑی ڈیمانڈ میں رہتا تھا۔۔
اس کی شادی ہوئی تو اسے بیوی بھی خوب ملی جو عورتوں میں نامور رہی۔۔ عورتوں کی زبان پر گردابر کی بیوی کا بھی اکثر ذکر رہتا۔۔ وہ بھی کافی ہوشیار عورت تھی۔۔ اور واقعی گردابر کو ایسی ہی بیوی کی ضرورت تھی جو اسی کی طرح ذرا تیز طرار قسم کی ہو۔ ورنہ چھوئی موئی،دبو قسم کی بیوی اس کے ساتھ بالکل نہ جچتی۔۔ سو رب نے بنائی جوڑی ۔۔ یہ بات ضرور ہے کہ اس کی بیوی کے نام کا کسی کو پتہ نہ تھا اور وہ ہمیشہ۔۔۔ گردَابر کی بیوی ۔۔۔ کے ٹائٹل کے ساتھ منظرِ عام پہ رہی۔۔ یقینا اس کا نام بھی کوئی علیحدہ، یونیک سا ہو گا۔۔چولستانیوں والا۔۔پھر اللہ نے انھیں اولاد کی نعمت سے بھی نوازا۔ کئی بیٹے تھے اس کے۔۔۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ وہ اور اس کی بیوی پکے چولستانی لوگ تھےلیکن وہ ہمیشہ گاؤں یا شہر میں ہی مقیم رہے۔ کبھی نہیں سنا کہ وہ چولستان میں جا کر رہ رہے ہوں۔۔( ممکن ہے وہاں اپنے رشتے داروں کو ملنے جاتے ہوں ) پر ان کی بدولت گاؤں، شہر والوں کا خوب بھلا ہوا۔ کیونکہ ان لوگوں کی وجہ سے چلتا پھرتا چولستان سب کی نظروں کے سامنے رہتا تھا۔۔اور سب کو سرائیکی زبان سننے کو ملتی رہتی تھی۔۔کہتے ہیں، شروع میں لوگ ان کی سرائیکی زبان سنتے تھے، سن کراسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے اور سمجھ سمجھ کر کبھی لفظوں میں کبھی اشاروں میں انھیں جواب دینے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن وہ تو اِک اکیڈمی ثابت ہوئے کہ انھوں نے متعلقین کو سرائیکی بولنی ہی سکھا دی ۔۔ سو اب لوگ بآسانی سرائیکی سمجھ کر ان کی زبان میں ہی ان کو جواب دینے لگے تھے۔۔(یعنی الٹے بانس بریلی کو ) اور اس کامیابی کا کریڈٹ بھی یقینا انھی کو جاتا تھا۔۔
اپنے دادا جان کی بہادری کے بعد اگر میں کسی شخص سے متاثر ہوں تو وہ گردَابر ہی تھا۔۔اس سے زیادہ جری اور بہادر انسان میں نےنہیں دیکھا۔( البتہ کم بہادربہت سےدیکھے ہیں۔۔)یقینا اب وہ اپنی اگلی نسلوں کو دیکھتا ہو گا۔۔ ان کی رونقوں سے محظوظ ہوتا ہو گا۔ میری دعا ہےکہ وہ جہاں بھی ہو۔ خوش ہو،مطمئن، تندرست و توانا ہو۔ اس کے اندر وہی بہادری، عزم اور ولولہ باقی ہو۔۔ دوسروں کے کام آنے والا وہ انسان کبھی کسی کا محتاج نہ ہو۔ ۔ ہمیشہ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں دینے والے کو اللہ آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین
اس بات کے بغیر یہ قصہ ادھورا رہے گا کہ اگر۔۔ اس کی بدولت سب اچھی خاصی سرائیکی زبان سمجھنے، بولنے لگے تھے تو اُدھر گردابر اور اس کی بیوی بھی اچھی خاصی پنجابی زبان سمجھنا اوربولنا سیکھ گئے تھے۔۔

۔۔۔۔ کائنات بشیر ،جرمنی۔۔۔۔

Advertisements

2 comments on “گردابر (سپین کے پاک سہارا انٹرنیشنل میگزین میں پبلش تحریر)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s