تیرا میرا ساتھ رہے(میگزین میں پبلش آرٹیکل)

تیرا میرا ساتھ رہے

فروری ۔۔
برفباری کا مہینہ۔۔
بیرون ملک خوب ہلہ گلہ کرنے والا اور پھولوں کی دکانوں کو خالی کر دینے والا ماہ ِرواں فروری۔
پردیس میں رہنے والے ایشیائی لوگ ۔۔ویلنٹائن ڈے منائیں یا نہ منائیں یہ علیحدہ بات ہےلیکن ان کے اردگرد وہ ماحول ضرور رہتا ہے عاشقوں والا، پھولوں والا،دل کی بیتاب دھڑکنوں والا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی انھیں اس ماحول سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی میں سانس لینا پڑتی ہے۔۔ وصل اور محبت کا تماشا عروج پر رہتا ہے،ہجر کسی کونے میں منہ چھپا لیتا ہے۔۔

ایک بارویلنٹائن ڈے اتوار کے دن آیا اور تب کچھ یوں ہوا تھا کہ۔۔ !
آج میں معمول کی طرح اتنی جلد نہیں اٹھ پائی۔ پوری رات شدید سردی رہی اور برفباری ہوتی رہی، اس لیے لحاف سے ناطہ توڑنا کافی مشکل لگ رہا تھا۔ رات دیر تک مستنصر حسین تارڑ کا سفر نامہ کےٹو کہانی پڑھتی رہی اور نظروں کے سامنے اینگل ٹاور رہے۔ سردی میں سردی کا تصور اور بھی دو چند ہو جاتا ہے جبکہ میں کسی خیمے کی بجائے ایک نرم گرم بستر اور لحاف میں موجود تھی۔ اکثر لوگ باہر ملکوں لحاف کی بجائے کمبل استعمال کرتے ہیں اور کمرےکا ہیٹنگ درجہ حرارت خوب گرم رکھتے ہیں لیکن مجھے یہ طریقہ کبھی نہیں بھایا۔ سو لحاف سے دوستی پاکستان سے یہاں بھی چلی آئی ہے جب تک تکیے کو اچھی طرح بازؤں میں نہ بھینچ لوں اور لحاف کو اچھی طرح اوڑھ نہ لوں وہ مزہ ہی نہیں آتا۔بیڈ روم کو میں سونے سے پہلے ہمیشہ نارمل ٹمپریچر پر لے آتی ہوں۔ بھئی پتہ تو چلنا چاہیئے کہ سردی ہے۔ جب تک سردی سے تھوڑا کپکپائیں گے نہیں تو کیسے پتہ چلے گا کہ ہم باہر ملک سنوکے درمیان اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں اور پھر دوسروں کو اپنی گزری رات کا سرد نامہ کیسے سنائیں گے۔۔؟

سو میں اٹھی۔ کسی معمول کی مانند بیڈ روم کی کھڑکی کی جانب بڑھی اور پردہ ہٹانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے۔( مجھے بلائنڈز کبھی نہیں بھائے جب تک کہ ہاتھ پردے کو محسوس نہ کر لیں) لوگ زیادہ دیر تک سوئیں تو خود کو تازہ دم محسوس کرتے ہیں لیکن میرے خمیر میں اوپر والے نے کچھ تضاد بھی ملا دیا۔ میں زیادہ اور دیر تلک سونے سے تازہ دم ہونےکی بجائے ہمیشہ خود کو پثرمردہ، سُست محسوس کرنے لگتی ہوں۔ دل جیسے خود کو ملامت کر تا ہے کہ اتنی دیر سے اٹھنے کی کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
دیکھو وقت دو گھنٹے آگے بھاگ گیا۔ ۔
نظارے اور جوان ہوگئے اور تم نے ان کی تخلیق کے لمحات مِس کر دئیے۔۔
حالانکہ ان دو گھنٹوں میں کونسا پہاڑ توڑ لینا تھا لیکن افسوس ہے کہ دل سےجاتا ہی نہیں جاتا۔ چائے کا کپ بھی بُری لتاڑتا ہے۔ کبھی کہتا ہے چھوڑو، اب کیا ضرورت ہے پینے کی۔۔ اور کبھی کہتا ہےآج میرے بنا دن گزار کر دیکھو، مزا نہ چکھا دیا تو میرا بھی نام نہیں۔۔

انھی خیالات کے جلو میں آگے بڑھی تھی۔ امید واثق تھی کہ اب زندگی کو معمول پر لانے، وقت کو منانے اور جاتی صبح کے سنگ کچھ ناراض ناراض گھڑیاں بتانی ہوں گی۔ اوپر سےچھٹی کا دن۔۔ اوپر والے نے آج ماہ وسال کے مغربی پروانوں کے لیے خوشی کا پورا ساماں کیا تھا۔ میں نے گہرے رنگ کے پردے دائیں بائیں کھسکائے۔ پردے ایسے ہٹے جیسےتصویر بنانے کے لیے دوسرے دن کینوس سے کوئی کپڑا ہٹا دے اور منظر واضح ہو جائے ۔۔ اب صرف ملائم مہین سفید پردہ میرے اور باہرکے منظر کے درمیان موجود تھا۔ پردے ایک طرف کرنے سےٹی وی سکرین کی طرح کمرے میں یک دم روشنی کی چاندنی سی پھیل گئی۔ رات بھر پڑتی برفباری نے ماحول کو چندھیا دیا تھا۔ آسماں دھند لی سفیدی کی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ اونچے اونچے درخت برف کا پیرہن پہنے کھڑے تھے۔درختوں کی شاخیں جیسے ماڈلنگ کرتے ہوئے اپنے بازو پھیلائے ہوئے تھیں۔ رنگ برنگے پھول، پتے، خزاں کی روندی ہوئی گھاس سب جیسے سہم کر زمین میں چھپ گئے تھے۔ سر نِگوں ہو کر اپنا آپ سَرانڈر کر دیا تھا۔۔ چاروں اور زمین پر سفید چاندنیاں بچھی تھیں۔ چھٹی کے دن اور برفیلے موسم نے خوب ہاتھ ملایا تھا۔ باہر نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔۔

آج سامنے ڈاکٹروں کی آماجگاہ بھی بندتھی ورنہ سفیدی مزید بڑھ جاتی۔ ۔اور سامنے نظر آتی روڈ بھی ٹریفک اور لوگوں سے خالی تھی سو اسے بھی استراحت کا موقع مل گیا تھا۔ سارے جہاں کو چھٹی تھی، فرصت تھی، محبت کے لمحات محسوس کرنے کے لیے، دل کی دھڑکنیں سننے کے لیے وافر لمحات تھے لیکن کچھ لوگ اور نظام پھر بھی پابندی میں جکڑا ہواتھا۔ بسیں آج بھی گزرنا تھیں ۔ ان میں بیٹھے ڈرائیور کو اپنا دل مسوس کر رہ جانا تھا۔البتہ آج بسیں پندرہ منٹ کی بجائے ہر آدھے گھنٹے بعد اور شام ڈھلے ایک گھنٹے بعد گزرنی تھیں۔ بے چاری سڑک آج بھی اک بے چارگی کے عالم میں اپنا تن پھیلائے چت پڑی تھی اور پبلک ٹرانسپورٹ نے وقت مقررہ پر اس کے سینے پر مونگ دلتےگزر جانا تھا۔ آج دکانیں بند تھیں۔ بیکری بھی پورا دن کی بجائے صرف دو تین گھنٹے کے لیے کھلنا تھیں۔ اس لیے کھانے پینے کا شوق رکھنے والوں کو ہر صورت آٹھ سے گیارہ بجے صبح کے درمیان اٹھ کر وہاں پہنچنا تھا لیکن پھر بھی بیکری آئیٹم خریدنے والوں کی تعداد کم ہی رہنا تھا۔ لوگوں نے یا تو ایک دن پہلے خاص الخاص کیک کا آرڈر دئیے ہونا تھا اور آج صرف اسےلینے ہی جانا تھا ورنہ بہت سے لوگوں نے اپنی محبت کا عملی ثبوت دینے کے لیے آج گھر میں ہی کیک بیک کرنا تھا اور وہ بھی دل کی شیپ میں۔۔ اور اپنی محبت کا یوں ثبوت دینا تھا۔۔

ویسے اپنے ملک سے دور ہٹلر کے ملک میں، جرمن لوگوں کے درمیاں رہ کر محبت کے بہت سے ابواب نہ چاہتے ہوئے ہم بھی پڑھ گئے ہیں۔۔ پھولوں سے ان کی محبت دیکھ کر اب ہم بھی پھولوں کے دیوانے ہیں۔ ۔گل و بلبل کے نغموں کا رازو رموز بھی اب اچھی طرح سمجھ میں آ گیا ہے۔۔ صبح دیکھے نہ شام، دن دیکھے نہ رات ان کی عملی محبتوں کےاظہار بھی اب روزِ اول کی طرح نہیں چونکاتے۔ ۔ بس اک دبی مسکراہٹ ،من میں چھوٹتی پھلجڑی اور ہلکی سی مسکان سے ہی کام چل جاتا ہے۔۔عاشقوں نے عشق کو وہ الوہی جذبہ نہیں رہنے دیا ،سرِ عام پیش کر کے کوئی سستی سی چیز بنا دیا ہے ۔۔

پھولوں کا انتظام بھی بہت سے لوگوں نے ایک دن پہلے ہی کر لینا تھا۔ پھول لا کر پھول دینے والے سے ہی چھپا کر رکھنے تھے یا پھر کسی کسی جگہ آج پھولوں کی دکانیں بھی کھلی مل ہی جانا تھیں ورنہ پڑول پمپ ، ٹینک سٹیلے، کیوسک والوں کی تو آج چاندی ہونے والی تھی۔ پھولوں کا سامان تو وہ عام دنوں میں بھی کرتے ہیں لیکن تب لوگ وہاں سے لینا درخور اعتنا نہیں سمجھتے لیکن آج وہاں پھولوں کی قیمت بڑھی ہونے کے باوجود ان کا کاروبار خوب چمکنے والا تھا۔ آخری گھڑیوں کو قابو کرنے والے بہت سے محبتی دل وہاں پہنچنے والے تھے۔ آخر محبوبہ کو ناراض تو نہیں کیا جا سکتا تھانا اور آج تو میاں بیوی کے درمیان بھی تجدید محبت کے لمحات ہیں۔ سب رنجش، ناراضگی بالائے طاق ہونا تھی۔ بلکہ روٹھے ہوؤں کو منانے کا بھی سنہری موقع تھا۔اب اگر خاوند نے بیوی کو پھولوں کا تحفہ نہ دیا تو وہ پورا سال اس کی محبت کی طرف سے مشکوک ہو سکتی ہے۔ دوسری عورت کا تصور اس کی نیندیں اڑا سکتا ہے۔ خاوند کی خدمت میں کمی بھی ہو سکتی ہے اور گھر میں پورا سال بددلی، بیزاری کے ابَربھی چھا سکتے ہیں۔ انگلینڈ اور کینیڈا میں اتوار کو بھی لوگوں کی سہولت کے لیے شاپنگ سینٹر اور دکانیں وغیرہ کھلی رہتی ہیں لیکن جرمن میں ایسا کچھ نہیں ۔۔ ہاں بھئی، ہٹلر اورجرمن کے رنگ نرالے۔۔۔ یہ جرمن حکومت کا فیصلہ ہے اور ماسوائے ہم ایشائیوں کے جرمن لوگ بھی اس بات پر بڑے خوش ہیں اور خود کو بڑا نرالا سمجھتے ہیں۔(ہفتے میں ایک دن پوری دنیا سے کٹ آف ہو کر اپنے جامے میں گزارنا چاہتے ہیں) لیکن جب ایسی شدت کی برف پڑی ہو اور ایسے میں باہر نکلنا محال ہو تو دکانوں کا بند ہونا ہی اچھا لگتا ہے کہ صدشکر کسی مجبوری کے باعث باہر تو نہیں نکلنا پڑے گا۔ اس لیے جرمن لوگ ٹی وی خوب دیکھتے ہیں۔۔ اخبار دل لگا کر پڑھتے ہیں ۔۔ پھول بوٹے اُگا کر آنکھوں کو تسکین، دل کو راحت اورمنظر کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے کے لیے گھر کے دَرو بام سجا دیتے ہیں۔۔
بالوں کو لپیٹ کر میں نے کلپ لگا لیا۔ نائٹ گاؤن پہنے میں کھڑکی سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔۔ صبح اٹھ کر اللہ میاں سے ربط کے بعد کچھ دیر کائنات سے جڑنا میرے دل کو بہت تسکین دیتا ہے۔ صبح کے تخلیقی نظارے میرے لیے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے میرے سامنے کوئی مصور تصویربنا رہا ہو اور کینوس پہ لحظہ بہ لحظہ خوبصورتی سے رنگ بکھرتے چلےجا رہے ہوں، منظر واضح ہوتا جا رہا ہو اور میری حیرانگی دوچندہو جاتی ہو۔ آج تخلیق کے لمحات گزر چکے تھے۔ تصویر مکمل تھی۔۔ قدرت کی طرف سے آج کا پُراثررنگ سفید تھا اور اب اسی سفیدی میں محبت کرنے والوں نے اپنی چاہت کے رنگ بھرنے تھے۔۔
ڈاکٹروں کی آماجگاہ کی پارکنگ آج بالکل خالی تھی۔ البتہ روڈ کے اطراف پر بنی پرائیوٹ پارکنگ میں جگہ جگہ گاڑیاں کھڑی نظر آ رہی تھیں۔اب میرا دھیان کائنات سے ہٹ کر ان کی جانب مبذول ہو چکا تھا۔ رات بھر ہوئی برفباری نے گاڑیوں کو بھی برف سے لاد کر ان کی پہچان چھین لی تھی۔ عام دنوں میں کھڑی یہ گاڑیاں مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو، نسان، آؤڈی ، ٹیوٹا، اک شان بے نیازی سے ایک دوسرے کو ٹکر دیتی محسوس ہوتی ہیں لیکن آج محمود و ایاز کی طرح شیرو شکر تھیں کیونکہ تمام گاڑیوں کی ونڈ سکرین، کھڑکیاں، چھت برف سے اٹی پڑی تھیں اور آج کسی کو بھی انھیں صاف کرنے کی جلدی نہ تھی ورنہ تو باقی دنوں میں صبح صبح ہر کوئی اپنی گاڑی کو جلدی جلدی برف سے صاف کر کے فوراآگے بڑھ جاتا ہے۔اور کمپنی کی گاڑیاں آ کر روڈ ، فٹ پاتھ اور پارکنگ کی برف سمیٹ دیتی ہیں ۔ یوں کاروبار زندگی چلتا رہتا ہے لیکن آج ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا تھا، ٹمپریچر اگر بڑھتا تو برف خود بخود پگھل جاتی اور اگر مزید برفباری ہوتی تو کچھ بوجھ مزید ان پر بڑھ جانا تھالیکن فی الوقت کچھ کہنا مشکل تھا۔یہی سوچتے سوچتے ہوئے میری نظر گاڑیوں اور ان پر پڑی برف کا احاطہ کر رہی تھی کہ اچانک ۔۔،
میری نظر نیچے سامنے کھڑی ایک گاڑی کی ونڈ سکرین پر پڑی۔ گاڑی برف سے اٹی پڑی تھی اور اپنا نام و نمو کھو چکی تھی لیکن اس کی ونڈ سکرین کسی کینوس بورڈ جیسا تاثردے رہی تھی جس کا فائدہ اٹھا کر کسی منچلے عاشق نے انگلش میں لکھ دیا تھا۔ آئی ۔۔لَو ۔۔ یو۔۔اور لوَکے او کی جگہ دل کا نشان بنا دیا گیا تھا۔ محبت کا یوں کھلے عام اظہار دیکھ کر میں چونک اٹھی۔مجھے لگا جیسے محبت بھرا خط راستے میں ہی کھل گیا ہو۔۔محبت کو سر عام رسوا کر دیا گیا ہو لیکن پھر میں بے اختیار مسکرا اٹھی ۔مجھے یہ اِک معصوم سی شرارت لگی اور میں تجسس میں پڑ گئی کہ اللہ جانے یہ کس نے لکھا ہے اور کس کے لیے لکھا ہے۔۔۔؟
سو اب یہی اچھا ہے کہ جس کے لیے یہ کھلا خط لکھا گیا ہے اور ویلنٹائن ڈے پر محبت بھرا پیغام دنیا کو دکھا دکھا کر، جلا جلا کر دیا گیا ہے کم سے کم وہ اسےایک بار توضرورپڑھ لے۔۔
دھوپ ہو چھایا ہو دن ہو کے رات رہے

تیرا میرا ساتھ رہے تیرا میرا ساتھ رہے
اور ۔۔میں مسکراتے ہوئے کھڑکی سے ہٹ گئی۔۔۔

۔۔۔۔ کائنات بشیر۔۔۔۔

Advertisements

2 comments on “تیرا میرا ساتھ رہے(میگزین میں پبلش آرٹیکل)

  1. خوبصورت ، بہت ہی خوبصورت

    نظارے اور جوان ہوگئے اور تم نے ان کی تخلیق کے لمحات مِس کر دئیے۔”
    زبردست اندازِ بیان

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s