دن دیہاڑے

5416262599_c817cccdb8_b1
دن دیہاڑے
 میں جرمن ٹی وی پر ایک پروگرام دیکھ رہی تھی۔۔
ہٹلر کا ملک، جرمن ویسے بھی اپنے قوانین کے لحاظ سے کافی سخت ہیں۔یورپ کےدیگر ملکوں کی طرح یہاں بھی شراب پی کر گاڑی چلانے پر ممانعت ہے۔ شہر کے اندر ہو یا ہائی وے پر، اس کی سخت مناعی ہے ۔ ان کے قوانین بھی اس رول کو سختی سے فالو کرتے ہیں۔ پولیس کو اکثر ایسے لوگوں سے نپٹنا پڑتا ہے۔ چاہے شک کی بنا پر ہی کیوں نہ انھیں روک لیا جائے۔ ابھی پچھلے دنوں ہی گردو نواح میں ایک واقعہ ہوا کہ ایک چالیس، بیالیس عورت روڈ پر سائیکل چلاتے ہوئے اس جگہ (زیبرا کراسنگ ) سے کراس کر رہی تھی جہاں واقعی اسی کا رائٹ تھااور باقی ٹریفک کو ہر صورت وہاں رکنا تھا۔ لیکن اسی اطمینان میں وہ بچاری ماری گئی کیونکہ ایک شرابی نے تیزی سے آتے ہوئے گاڑی اس پر چڑھا دی تھی۔۔
جب یہاں گاڑی چلانی سکھائی جاتی ہے تو گاڑی انسٹرکٹر یہ بات بھی گاڑی چلانے والے کو سکھلاتا ہے کہ نہ صرف تمھارے پاس اپنی گاڑی کا کنٹرول ہے بلکہ تم نے اگلی گاڑی پر بھی نظر رکھنی ہے کہ اس کا ڈرائیور کیا کرنے والا ہے۔ وہ لیڈی صرف اپنے حق سے ہی آگاہ رہی اور یہ حق ہی اسے لے ڈوبا۔ اسے یہ اندازہ نہیں ہوا کہ سڑک اس کے علاوہ شرابی کی بھی تھی جو اس وقت کسی پب بار، یاپیدل کی بجائے گاڑی میں دندنا رہا تھا۔ سو یہ واقعہ کافی عبرت ناک بنا۔
جرمن میں ان قوانین کے بننے کے باوجود لوگ اس کی خلاف ورزی کرتے پائے جاتے ہیں جن کی زیادہ تعداد ان کے اپنے ہی جرمنوں کی ہوتی ہے۔ باقی اقلیتوں کے لوگ تو اکا دکا، منظر بدلنے کے لیے کبھی کبھار ان کے ہاتھ لگتے ہیں۔۔
ہائی وے پر جگہ جگہ کیمرے اور گشت کرتی پولیس کے ہاتھوں ایسے لوگ جلد شکنجے میں آ جاتے ہیں۔مزے کی بات تب ہوتی ہے۔ جب پولیس محض شک کی بنا پر کسی ایسی گاڑی کو روکتی ہے اور اس کے ڈرائیور سے پوچھ پرسید کرنے لگتی ہے۔ان کا اس شخص سے پہلا سوال ہی یہ ہوتا ہے کہ ،
“کیا تم نے الکوحل پی رکھی ہے ؟”
تو وہ آدمی پولیس والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ کر مکر جاتا ہے ۔۔ کہ اس نے نہیں پی۔ حتٰی کہ اس کی آنکھیں نشے سے نشیلی ہو رہی ہوں، قدم لڑکھڑا رہے ہوں۔نشے میں سارا جہاں جھوم رہا ہوں۔لیکن وہ جوتیوں سمیت پولیس والے کی آنکھوں میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے۔۔ اس بے دریغ جھوٹ پہ کئی پولیس والے مسکرانے لگتے ہیں اور چند ایک کا مزاج برہم ہونے لگتا ہے۔ تب وہ اگلی جسمانی کاروائی ڈال کر اس کی باڈی میں الکوحل کا پتہ چلا لیتے ہیں اور شرابی کو ثبوت کے ساتھ بتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ۔۔ مانو یا نہ مانو۔ لیکن تم نے پی رکھی ہے۔تو شرابی اپنے گزشتہ بیان سے بالکل معمولی سا انحراف کرنے لگتا ہے اور انگوٹھے انگلی کے درمیان رتی بھر کا فاصلہ پولیس والے کو دکھا کر کہتا ہے کہ،
” بس اتنی سی پی ہے “
( ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے )
لیکن اتنی سی پینے پر بھی وہ ٹریفک قوانین کی زد سے نہیں بچ پاتااور اس پر لازمی کوئی نہ کوئی ایکشن ضرور ہوتا ہے۔
شرابی کا مست جہاں میں جانے کا کوئی وقت نہیں۔۔ نہ دن دیکھے نہ رات، نہ صبح دیکھے نہ شام،الف لیوی دنیا میں جا کر پریوں کا رقص دیکھنے کو ہر وقت تیار ۔۔
توکل میں جرمن ٹی وی پر ایک ایسا ہی پروگرام دیکھ رہی تھی کہ۔۔
دن دیہاڑے پولیس نے ایک جرمن شخص کو ہائی وے پر روکا جس نے پی رکھی تھی اور پینے سے صاف انکاری تھا۔ خیر پولیس والوں نے اپنی کاروائی ڈالی اور اس کے سچ جھوٹ کا پتہ چلا لیا۔اب وہ اسے اس حالت میں مزید گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ سو انھوں نے اس آدمی کے گھر فون کر دیا اور اس کی بیوی سے کہا کہ وہ وہاں موقع پر آئے اور اپنے خاوند کو گاڑی سمیت لے جائے ۔۔
تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ لیڈی ان کے پاس پہنچ گئی۔ پولیس والے نے اس کے خاوند سے متعلق پوری سٹوری اور اپنی کاروائی اسے بتائی اور اسے وہاں سے لے جانے کے لیے کہہ دیا۔ پولیس والا جب یہ سب اسے بتا رہا تھا تو وہ عورت بظاہر بغور سن رہی تھی لیکن نہ جانے یہ پولیس والے کی چھٹی حِس تھی یا اس عورت میں اسے کوئی ایسی بات نظر آئی کہ اسے شک ہوا کہ اس عورت نے بھی پی رکھی ہے۔ لہذا ان کو ڈبل کاروائی ڈالنی پڑی۔ بات تو سچ تھی پر تھی ڈبل رسوائی کی۔۔
فرق صرف اتنا تھاکہ،
عورت نے ایک پیگ پی رکھی تھی اور مرد نے کئی پیگ چڑھا رکھے تھے۔
۔۔۔ کائنات بشیر۔۔۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s