چھ ستمبر

چھ ستمبر

ایک بہت اہم دن اور خاص تاریخ۔۔۔۔!

اب ۔۔۔ اہل وطن تو سب ہیں پر محب وطن ۔۔۔۔ ؟
 
 
چھ ستمبر کی اس گھڑی کا ہمارے بزرگوں نے سامنا کیا ۔۔۔۔ جب پاکستان ابھی نیا نیا ہی بنا تھا تو انڈیا نے اس پر شب خون مارنے کی کوشش کی۔ پر پاکستان کو حاصل کرنے والے اس کی قدروقیمت جاننے والے اس اچانک کی جنگ کے آگے جس طرح سینہ سپر ہو گئے، آگے ڈٹ گئے۔ اور تھوڑی نفری کے ساتھ ہی جس طرح اور جس جذبے سے مقابلہ کیا۔ اور دشمن کو واپس اس کے علاقے میں دھکیلا،ان میں وہ ہمت اور جذبہ ہمیں آج بھی دکھائی دیتا ہے اور محسوس ہوتا ہے۔ اور اس وقت کس طرح دشمن کے دانت کھٹے کیے، جو یہ پروگرام بنا کر واہگہ کے بارڈر سے حملہ آور ہوا تھا کہ شام کی چائے لاہور میں پئیں گے۔
 
ایوب خان کا دور تھا بقول میرے والد صاحب کے، اصلاحات کا دور تھا۔ ایک آخری تسلی بخش دور ۔۔۔ وہ بتایا کرتے کہ اس دور کے بعد تو جیسے پاکستان کا چاند گہنا گیا۔ وہ اک وفا کا دور بھی تھا۔ حکمران سے لے کر عوام تک کا ایک رشتہ خاص جڑا ہوا تھا۔ حکمران پر لوگ بہت بھروسہ یقین رکھتے تھے۔ اور عوام میں بھی اک وفاداری کا پاس تھا۔ آج کے دور والی بے یقینی تو بالکل نہ تھی۔ جو آج پورے سسٹم میں سرائیت کر گئی ہے۔
 
بقول والد صاحب، تب شائد ہوا ہی ایسی چلا کرتی تھی۔ کہ نفسا نفسی، دکھاوا، لائف سٹینڈرڈ کی دوڑ، افراط زر جیسی چیزیں نہ تھیں۔ جو جتنے میں تھا مزے میں تھا خوش تھا۔ امیر رشتہ دار کو دیکھ کر غریب رشتہ دار میں نہ تو حسد جیسی کوئی بات تھی، جو اس کی زندگی میں بھی بھگدڑ مچا دیتی اور نہ ہی صاحب حثیت رشتہ دار اپنے کو اور نمایاں بنا دکھا کر پیش کرتے۔ بلکہ یہ سب اللہ میاں کی تقسیم سمجھی جاتی۔ جس پر سب شیر و شکر رہتے۔ جب ایسی خالص سوچ تھی تو نہ کوئی مقابلہ تھا نہ اس کی دوڑ۔
 
اور اس سادگی اور شیروشکر کے دور میں اچانک چھ ستمبر آ گئی۔ اہل وطن کے لیے ایک آزمائش اور فوج کے لیے ایک ڈبل اور اہم ڈیوٹی و ذمہ داری۔ مگر اچھی بات یہ رہی کہ حکمران وقت پر عوام کا بھروسہ اتنا پکا تھا کہ وہ ان کے لیے اس وقت مسیحا سے کم نہ تھا اور فوج پر اتنا یقین تھا کہ اپنے ملک اور عوام کی خاطر وہ جان پر کھیل جائیں گے۔ پر ملک کو گزند نہ پہنچنے دیں گے۔ اور اسی جذبے اور یقین نے اس وقت اس ناگہانی سے نپٹنے کی ہمت طاقت دی۔
 
امی ابو بتایا کرتے کہ جیسے ہی دشمن کے جہاز حملہ کرنے آتے تو فورا سائرن بجا دیے جاتے۔ عوام کو یہ ہدایت نامے جاری کر دئیے گئے تھے کہ ایمبرجینسی کے نفاذ کے وقت انھیں اپنی حفاظت کیسے کرنا ہے۔ سو سائرن بجتے ہی لوگ گھروں میں محفوظ حصوں کی جانب بھاگتے، جیسے سیڑھیوں کے نیچے، تہہ خانوں میں اور اس مقصد کے لیے جگہ جگہ کھودی خندقوں میں۔ امی جان بتایا کرتیں کہ سائرن بجتے ہی پہلے تو دل ضرور ایک سیکنڈ کو اچھلتا لیکن پھر ساتھ ہی اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھی ہم تیار ہوتے، اور موقع کے حساب سے جو جگہ اس فوری سچوئیشن میں ملتی جلدی سے وہاں گھس جاتے، اور اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے۔ پھر بھی منتظر ہوتے کہ اب جہاز آئے کہ تب آئے اور پھر ایک دو منٹ کے اندر ہی گونجدار آوازوں کے ساتھ جہازوں کی آمد ہوتی۔ جن کی پرواز بہت نچلی ہوتی۔
 
تب ہمارا گھر ٹرپل کی جگہ ڈبل سٹوری تھا۔ نیچے امی ابو رہتے تھے اور اوپر منزل ایک رشتہ دار فیملی۔ سو سائرن بجتے ہی دونوں فیملیوں میں افراتفری مچ جاتی اور گلی محلے میں لوگوں کی بھگدڑ، جو یقینا پھر گھر سے دور اور خندقوں کے قریب ہوتے تھے جو اسی مقصد کے لیے ہر گلی محلے میں کھودی گئی تھیں۔ گھروں میں رہنے والے گھروں میں چھپ جاتے اور باہر والے خندقوں میں روپوش ہو جاتے اور آیات قرآنی کا ذکر لبوں پر ہوتا۔ رات کو لوڈ شیڈنگ کا سماں ہوتا۔ مجال ہے کوئی روشنی جلا جائے۔ روم میں بہت کم واٹ تک کے بلب استعمال کیے جاتے، جو سائرن بجتے ہی بھاگم دوڑ میں وہ بھی احتیاطا گل کر دئے جاتے یا پھر کھڑکیوں، روشندانوں پر کالے پیپر چسپاں کیے جاتے۔ جان لیں کہ ہر شخص اپنی حد تک پوری ذمہ داری نبھاتا تھا۔ اور اگرنہ بھی نبھاتا تو اسے ٹوکنے والے بہت ہوتے تھے۔ اور وہ شرمساری کے زمانے بھی تھے۔
 
امی جان بتاتی تھیں ایک بار وہ اوپری منزل پر رشتہ داروں کے ہمراہ صحن میں تھیں کہ اچانک حملہ آور طیارے پہلے آ گئے اور سائرن بعد میں بجنا شروع ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمیں اپنے آپ کو محفوظ کرنے کا موقع ہی نہ ملا اور دشمن کے حملہ آور طیارے اور ہمارے طیارے انھیں مار بھگانے کے لیے ہمارے سروں پر گھوم رہے تھے۔ اور ان کی پرواز اتنی نچلی تھی کہ لگتا تھا ہماری چھتوں سے تھوڑا ہی اوپر ہیں۔ چھ سات طیارے معہ ان کی گونجدار آوازیں اور ایک دوسرے پر حملہ کرتے ایک گول دائرے میں وہ گھوم رہے تھے معہ گولیوں کی تڑ تڑ تڑ کرتی آوازوں کے۔۔۔ لگتا تھا ہمارے پاؤں ہی جیسے زمیں میں جکڑے گئے اور ہم بھی جنگ کی کیفیت بھول کر ان کی لڑائی دیکھنے لگ پڑے۔ جو چند منٹ جاری رہی۔ پھر دشمن کے ایک طیارے سے دھواں نکلتا نظر آیا اور وہ نیچے گرتا محسوس ہوا تب دشمن کے باقی طیارے بھاگتے محسوس ہوئے۔ اور یہ اچانک کا ہنگامہ ختم ہوا۔ اور پھر دوسرا سائرن بجا دیا گیا۔ ایک سائرن ایمبرجینسی شروع ہونے کا بجتا تھا اور دوسرا یہ ہنگامی حالت ختم ہونے کا۔ اور یہ پہلا موقع تھا کہ وہیں کھڑے کھڑے دونوں سائرن بج گئے۔
 
ایک بات اور بھی ابو بتایا کرتے ۔۔ کہ اتنا سب کچھ ہنگامی تھا مگر خوف و ہراس بالکل نہ تھا۔ ہنگامی سچوئیشن کے بعد لوگ ایسے اپنے روزگار کاموں میں مصروف ہو جاتے۔ جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ سکول وغیرہ ضرور بند کر دئیے گئے تھے مگر آفس کاروبار زندگی سب جاری تھا۔ والد صاحب خود ریلوے میں افسر تھے اور انھوں نے پورے دنوں اپنی ڈیوٹی جوائن کی تھی۔ یہی بات وہ مجھے اور بھائی کو بتایا اور سمجھایا کرتے تھے کہ اور سہاروں کو دیکھنے کی بجائے اللہ توکل ہونا چاہیئے جو تب لوگ ہوا کرتے تھے۔ لہذا چھ ستمبر کی جنگ کو اپنے ملک پر اور خود پر ایک آزمائش کی طرح سب نے لیا تھا اور اس سے نپٹنے کے لیے سب یکجا تھے۔ صدر ایوب جان کی ایک اپنی طاقت تھی اور فوج نے جس طرح اپنی جان لڑا دی اور کتنے میجر عزیز بھٹی جسے شہید اور نشان حیدر سامنے آئے، جنہیں آج بھی ہم سلام کرتے ہیں۔ اور عوام کا ایک اپنا علیحدہ حب الوطنی کا جذبہ تھا۔ جو انھیں اک نئی ہمت اور طاقت دیتا تھا۔ اور یہ جذبہ کم نہ پڑ جائے اور اسے ابھارنے کے لیے اس وقت ملی ترانوں و قومی نغموں نے بہت ابھارا سہارا دیا۔
 
اے وطن کے سجیلے جوانو۔۔
 
اللہ اکبر اللہ کی رحمت کا سایہ توحید کا پرچم لہرایا
اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا
 
یاد کرتا ہے زمانہ انھی انسانوں کو
روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو
 
جیوے جیوے جیوے پاکستان
جگ جگ جیئے میرا پیارا وطن
اے وطن پاک وطن شاد وطن
 
اک لڑائی تھی جو سب نے اپنی اپنی جگہ لڑی تھی ۔ سمجھ لیں سب نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھی تھیں۔ تبھی جیت مقدر بنی اور فتح نصیب ہوئی۔ اور یہ ثابت ہوا تھا کہ خدا اسی قوم کی حالت بدلتا ہے جو خود اپنی حالت بدلنا چاہتی ہے۔
 
کائنات بشیر
********

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s