سوال آپکے جواب ہمارے

میں ایک مطب خانے میں بیٹھی تھی۔ انتظار کے باوجود ابھی حکیم صاحب موجود نہ تھے اور مریضوں سے ماحول گرم تھا۔ سوچا جب تک حکیم صاحب نہیں آتے تب تک کچھ مریضوں کا عرض حال میں ہی سن کر انھیں بھگتا لوں۔
سوال : میرے بال گھنے اور سیاہ تھے، مگر اس شوق میں کہ بال خوبصورت ہو جائیں بھورے کرنے کے لیے ہائیڈروجن آکسائیڈ کا استعمال کر لیا۔ جس سے بال تو بھورے ہو گئے مگر اب بال گرنے لگے ہیں۔ بس کوئی مشورہ دیں کہ بال گرنے رک جائیں اور دوبارہ سیاہ ہو جائیں؟
جواب:
خير سے بدھو گھر کو آئے۔
آپ کی مت ماری گئی تھی۔ بھلا آپ کو خوبصورت سیاہ اور گھنے بالوں کو بھورا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ فطرت سے جنگ انسان کے لیے سراسر خسارا ہے۔ نہ کبھی ایسا ہوا ہے اور نہ کبھی ہو گا کہ انسان فطرت سے جنگ جیت سکے۔ اور کالے سیاہ بال تو خوبصورتی کی علامت ہیں۔ شاعر کالی گھٹاؤں جیسے بالوں پر باجماعت مرتے ہیں۔ کبھی آپ نے بھوری گھٹائیں دیکھی سنی ہیں۔ خیر اب آپ کو صبر کا لمبا پارٹ پڑھنا پڑے گا۔ سو جب تک بال خود بخود دوبارہ کالے نہیں ہو جاتے تب تک انتظار کریں، روز آئینہ دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھریں یا اتنا عرصہ سر پر کالی وگ استعمال کریں۔
سوال: مجھے بھوک بہت لگتی ہے۔ کھانا کھانے کے بعد بھی احساس ہوتا ہے کہ ابھی کچھ کھایا ہی نہیں۔ سو تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ کھاتا ہی رہتا ہوں۔ سمجھ لیں کہ ہر گھنٹے بعد کچھ نہ کچھ ضرور کھاتا ہوں۔ کوئی نسخہ مشورہ درکار ہے۔ ؟
جواب، ندیدے کہیں کے،
آپ کو جو بھی تکلیف ہے اسے طبی زبان میں جوع البقر کہتے ہیں یعنی بکری کی طرح ہر وقت منہ مارتے رہنا۔ اور یہ اب آپ کی عادت بن چکا ہے جسے آپ روک نہیں سکتے۔ سو صرف کھانے کے وقت کھانا کھائیے۔ اور باقی ہر گھنٹے کے بعد چیونگم چبایا کریں۔ اور کھانے کے اوقات میں دوسروں کے ہاں جانے سے گریز کیجئے۔
سوال : میری عمر بائیس سال ہے۔ ایم اے کر لیا ہے مگر ابھی تک داڑھی، مونچھوں کے بال نہیں آئے۔ جس کی وجہ سے دوست یار مذاق کرتے ہیں، اسلیئے دوستوں کی محفل میں جانے سے گریز کرتا ہوں۔ مہربانی فرمائیے ؟
جواب :
احسان میرے دل پہ تمھارا ہے دوستو
یہ دل تمھارے پیار کا مارا ہے دوستو
آپ دوستوں کو یار غار سمجھ کر معاف کر دیں۔ وہ اپنی ٹانگ کھنچنے کی عادت سے مجبور ہیں۔ آپ تو بار بار شکر ادا کریں کہ آپ اس وقت یعنی فلموں کے کلاسک دور میں پیدا نہیں ہوئے۔ ورنہ کندن لال سہگل کی مونچھیں آپ کو چیلنج دیتیں۔ مغل اعظم میں دلیپ کمار کی مونچھیں اپنی جانب متوجہ کرتیں۔ مونچھوں کو تاؤ دینے کے زمانے سے بھی آپ کی بچت ہو گئی۔ اور امتیابچن، جانی واکر، کشور کمار، انیل کپور کی مونچھوں کو نظر انداز کر دیں۔ اور رتیک روشن، فردین خان اور رنبھیر کپور کی مونچھوں سے خائف ہونے کی بالکل ضرورت نہیں۔ اگر پھر بھی یہ کمی محسوس کرتے ہیں تو کبھی کبھی نقلی مونچھ لگا کر شوق پورا کر سکتے ہیں۔ آخر عورتیں بھی تو نقلی بال لگا کر اپنا ذوق و شوق پوراکرتی ہی ہیں۔اور داڑھی کو تو بھول جائیں وہ کبھی فیشن میں ہوتی ہے کبھی نہیں۔ ویسے سر کے بالوں کی فکر رکھیے گا۔

سوال: مجھے دور کی اشیاء صاف نظر نہیں آتیں۔ حالانکہ صحت بہت اچھی ہے۔ کوئی علاج مشورہ دیجئے ؟
جواب: شکر کریں ،
کم از کم آپ کو قریب کی اشیاء تو ٹھیک نظر آتی ہیں نا، ناشکرے کہیں کے،
سوال: غیر شادی شدہ ہوں۔ سال بھر سے سر میں سفید بال نظر آنے لگے ہیں۔ کئی نسخے آزمائے مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، پلیز رہنمائی کریں؟
جواب: مکھڑے پہ سہرا ڈالے آ جاؤ آنے والے
آپ بالکل بھی فکر مت کریں۔ کیونکہ فکر کرنا آپ کے لیے زہر کے برابر ہے۔ اس سے بال دن بدن نہیں، سیکنڈ بہ سکینڈ سفید ہوتے چلے جائیں گے۔ اور ویسے بھی آپ کو فکر، علاج معالجے کی کیا ضرورت؟ یقینا آپ کو کوئی نہ کوئی سفید بالوں والی حسینہ مل ہی جائے گی۔
سوال: میں ایک بنک میں کیشیئر ہوں۔ جب ڈیوٹی ختم کر کے اٹھتا ہوں تو سر چکراتا ہے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے اور اردگرد کی شے گھومتی محسوس ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو کھڑا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کوئی مشورہ، نسخہ عنایت کیجیے؟
جواب: ہوں، پکڑے گئے نا،
جناب سارا دن تو بنک میں آپ کی طبیعت ٹھیک رہتی ہے۔ مگر چھٹی کے وقت ایسا ہونا۔ ۔ دراصل سارا دن آپ کے ہاتھ کڑکڑاتے کھڑکتے نوٹوں کی گنتی کرتے رہتے ہیں۔ اور آپ اپنے آپ کو ایک دولتمند انسان سمجھنے لگتے ہیں۔ اور گھر جاتے وقت یہ خزانہ آپکے ہاتھوں سے چھوٹنے لگتا ہے۔ سو اسی لیے آپ کی یہ کیفیات ہوتی ہیں۔ لالچی کہیں کے، اگر ممکن ہو سکے تو رات کے لیے وہیں بنک میں بستر لگوا لیں یا وہاں چوکیدار کی نوکری لے لیں۔ ورنہ گلوکوز کی ٹیبلٹ اپنی جیب میں رکھیں۔ اور بنک سے نکلتے ہوئے چھٹی کے وقت حسب ضرورت ٹکیاں استعمال کریں۔


سوال: مجھے نیند بہت کم آتی ہے۔رات رات بھر جاگ جاگ کر وقت گزارنا پڑتا ہے۔ کچھ بتائیے گا کہ ایسا کیوں ہے؟
جواب:
کروٹیں بدلتے رہے ساری رات تم
آپ کی قسم آپ کی قسم،
پہلے تو یہ بتائیے کہ کہیں آپ شاعر تو نہیں؟ یا آپ کو وہ تو نہیں ہوگئی جسے عاشقان برادری محبت وحبت، عشق وشق، پیار ویار کا نام دیتی ہے۔ اگر ایسا ہے پھر تو گئے کام سے۔ ۔ کچھ عرصے بعد آپ خود ہی گاتے پھریں گے،
سب کچھ سیکھا ہم نے نہ سیکھی ہوشیاری
سچ ہے دنیا والو کہ ہم ہیں اناڑی
یا آپ نے کسی کا قرض تو نہیں دینا۔ بندہ بشر ہیں آخر کسی کے بھی مقروض ہو سکتے ہیں۔ ویسے کیا آپ کے گھر میں انٹرنیٹ نہیں ہے۔؟ لوگ تو وہاں رات بھرمکھیوں کی طرح بیٹھے رہتے ہیں اور نیند کو بھگا کر وقت گزاری کرتے ہیں۔ خیر، اگر ایسا کچھ نہیں ہے تو میرے خیال سے آپ کے دماغ میں خشکی ہو گئی ہے۔ سو ہر پندرہ دن بعد سر پہ مہندی لگائیے، اس طرح سنت اسلامی بھی پوری ہوتی رہے گی۔ اور انجانی نیکیوں کا ثواب بھی آپ کے کھاتے میں جمع ہوتا رہے گا۔ ورنہ رات کو سوتے وقت گرم گرم دودھ میں خشخاش کی پوٹلی جادو کی طرح دو چار چکر دے کر گھما لیجئے اور پی لیجئے۔ اتنی گہری نیند آئے گی کہ آپ کو سوتے میں اپنی ہی خبر نہیں رہے گی۔

سوال: مجھے خارش کی شکایت ہو گئی ہے۔ جسم دانوں سے پر ہو گیا ہے۔ رات کو تو بہت زیادہ خارش ہوتی ہے۔ سو کھجاتے کھجاتے صبح ہو جاتی ہے۔ اس خارش کے ہاتھوں بہت پریشان ہوں۔ مشورہ درکار ہے۔ ؟
جواب: برے پھنسے نا،
یاد رکھیے گا، خارش ایک اچھوتی بیماری ہے۔ جو آپ باقی گھر والوں میں بھی مفتو مفتی بانٹ سکتے ہیں۔ مگر ایسا کیجئے گا مت، بلکہ ناراض ہو کر ان سے اپنا بستر الگ کر لیں۔ ویسے بھیا کھجانے کے لیے تو آپ کے پاس سر موجود ہے اور ہتھیلی بھی، اب سیسہ فیشن ان ہے ورنہ حقے کے پانی سے اشنان آپ کے لیے بہت کارآمد تھا۔ خیر سدا بہار درخت نیم کی پتیاں ابال کر اس سے نہائیے۔ اور تب تک نہاتے رہیئے جب تک خارش ختم نہ ہو جائے۔ اس دوران کہیں مہمان بن کر مت چلے جائیے گا اور جلسے، جلوس میں جانے سے بھی پرہیز رکھیئے گا۔ ورنہ ڈاکٹروں کو مصیبت پڑ جائے گی۔

سوال: چند دن ہوئے، عجیب الجھن میں ہوں۔ جو بھی چیز کھاتا ہوں، اس کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا۔ نمک والی چیز کھا لوں تو نمکین نہیں لگتی، کوئی میٹھی چیز کھاؤں تو مٹھاس محسوس نہیں ہوتی۔ کیا کروں؟
جواب: اس مرض کو طبی زبان میں بطلان ذوق کہتے ہیں۔ اس میں چکھنے کی حس نہیں رہتی۔ خیر فکر کی بات نہیں۔ جب تک یہ بحال نہیں ہوتی۔ آپ کوئی ڈائٹینگ پلان آسانی سے فالو کر سکتے ہیں۔ کریلے، نیم، کڑوی چیزوں کا استعمال بھی ٹھیک رہے گا۔ اور گھر والوں سے بخوشی کدو، بینگن، توری ، حلوہ کدو پکوا کر کھا سکتے ہیں۔

سوال: میں پان کھانے کا عادی ہوں۔ گزشتہ روز پان میں چونا زیادہ پڑ گیا۔ جس سے زبان پھٹ گئی۔ اب پان کھانے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ کیا علاج کروں؟
جواب:
کھائیکے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
پر لگتا ہے آپ کی عقل کا تالا تو جم گیا۔ اب فکر کرنے سے کیا ہووت، آپ کوئی پان کھانا تھوڑی چھوڑ دیں گے۔ آخر زہر کو زہر مارے، آپ پان میں خوب سارا چونا، کتھا، تمباکو اور سپاری ڈال کے کھاتے رہیئے۔ آخر زبان کبھی نہ کبھی تو اس نئے ذائقے کی عادی ہو جائے گی۔

سوال: میری بچی کی عمر دو سال ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے وہ چارپائی کے جنگلے سے سر ٹکراتی ہے۔ بعض دفعہ تو کافی بار سر ٹکراتی ہے۔ کیا کریں؟
جواب: اونہوں بھولے بادشاہ،
لگتا ہے آپ وقت اور زمانے کے ساتھ نہیں چلتے۔ ورنہ یہ مسئلہ کب کا خود ختم کر چکے ہوتے۔ بچی نئے دور کی نئی فصل ہے۔ اس کی مانگیں بھی مختلف ہیں۔ لگتا ہے آپ نے اسے ابھی تک موبائیل ہاتھ میں نہیں پکڑایا اور لیپ ٹاپ اس کی گود میں نہیں رکھا۔ سو جلد از جلد اس کی معصوم خواہشات پوری کریں۔ اسے یہ چیزیں لا کر دیں۔ ورنہ ابھی تو وہ سر چارپائی سے ٹکراتی ہے، آئندہ وہ پھر زمین پر ٹکریں مارے گی اور ساتھ ساتھ ایڑیاں بھی رگڑ سکتی ہے۔

سوال: کھانا کھانے کے بعد میرا پیٹ پھول جاتا ہے۔ جیسے کسی نے غبارے میں ہوا بھر دی ہو۔ پیٹ میں کبھی بادل گرجتے محسوس ہوتے ہیں اور کبھی قر قر قر کی آواز آتی ہے اور کبھی گڑ گڑ گڑ کی، مشورہ چائیے؟
جواب:

بادل یوں گرجتا ہے ڈر کچھ ایسا لگتا ہے
بھیا، میں تو خود سن کر حیران ہوں کہ آپ کے پیٹ میں کوئی آرکسٹرا آرگنائز ہے۔ جہاں سے اتنے سروں کی موسیقی بجتی ہے۔ لگتا ہے آپ اپنے کھانے پر دھیان نہیں دے رہے۔ اور غذا کے ساتھ ساتھ بہت ساری ہوا بھی مفت میں نگل لیتے ہیں۔ یا آپ بادی چیزیں کھا رہے ہیں۔ جیسے گوبھی، ماش کی دال، چنے، لوبیے وغیرہ وغیرہ۔اور ان سے یہ ہوا بن کر مستی میں آ رہی ہے۔ سو اجوائن، سونف، گڑ، کالے نمک، کالی مرچ اور خصوصا مولیوں کا استعمال آپ کے لیے مفید رہے گا۔

سوال: میری آنکھوں سے پانی آنسوؤں کی طرح بہتا ہے۔ آنکھوں میں نہ تو جلن ہے اور نہ ہی میں رو رہا ہوتا ہوں۔ کیا کروں؟
جواب: نیناں برسے رم جھم رم جھم
لگتا ہے آپ بہت جذباتی انسان ہیں۔ اور آپ کے نین ہر وقت بھرے رہتے ہیں جو ذرا سی بات پر چھلک جاتے ہیں۔ کیا آپ زیادہ جذباتی فلمیں دیکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان کی جگہ ایکشن فلمیں دیکھنی شروع کر دیجئے۔ یا آپ کی بیوی آپ سے روزانہ پیاز کٹواتی ہے۔ اگر ایسا ہے بھی تو کوئی حرج نہیں، آنسو بہنے سے آنکھیں صاف شفاف ہو جاتی ہیں۔ اور اگر آپ کو پھر بھی اعتراض ہے تو آئندہ چشمہ لگا کر پیاز کاٹیے گا۔ بیوی بھی خوش رہے گی اور آپ کا مسئلہ بھی حل۔
سوال: میں ایک دوکاندار ہوں۔میری صابن فروخت کرنے کی ایک دوکان ہے۔میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری جلد خشک ہو گئی ہے اور اس میں خارش بھی ہوتی ہے۔ صابن استعمال کرنے سے خشکی اور خارش بڑھ جاتی ہے۔ کوئی مشورہ دیجیئے؟
جواب: لو کر لو بات،
جناب لوشن، شمپوز کے دور میں اگر آپ سارا دن مختلف صابن کے درمیان رہیں گے۔ اور صابن استعمال کریں گے تو ری ایکشن ری پلے تو ہو گا ہی۔ سو صابن کی جگہ اپنی دوکان پر شمپوز کی رنگین بوتلیں رکھیں۔ چمچماتے پرفیومز ، باڈی لوشن، فیس واش اور واش گیل رکھیے۔ اور خود بھی یہی استعمال کیجیئے تو دیکھیے گا خشکی خارش دور اور جلد ملائم ہو جائے گی۔

سوال:مجھے سر میں درد رہتا ہے۔ تھوڑی دیر مطالعہ کر لوں یا شوروغل ہو، اونچی آواز سے گفتگو کر لوں تو سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ اگر آرام سے لیٹ جاؤں یا نیند آ جائے تو درد ختم ہو جاتا ہے۔؟
جواب: مہربان لگتا ہے آپ بہت حساس شخصیت کے مالک ہیں۔ جو دوسروں کو سنتے ہی آپ کے سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ یا آپ تنہائی پسند ہیں۔ دنیا سے بیزار، جی اچاٹ، یا آپ اپنی ہی کہنا چاہتے ہیں دوسروں کی سننا نہیں چاہتے۔ ویسے تو اس تالے کی چابی آپ ہی کے پاس ہے جب بھی سر درد ہو سو جائیے۔ یوں تو آپ درویش بھی بن سکتے ہیں۔ بیاباں کی خاک بھی چھان سکتے ہیں۔ پر مجھے لگتا ہے کہ فطرت آپ کے لیے ممدون ثابت ہو گی۔ آپ مستنصرحسین تارڑ کے ساتھ کوہ نوردی کیا کریں۔ ان کی سیاح پارٹی جوائن کر لیں۔ وہ آپ کو ایسی ایسی جگہوں پر لے جائیں گے۔ جہاں نہ بندہ نہ بندے کی ذات، اور یوں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

سوال: بعض دفعہ میرا اچانک دل گھبرانے لگتا ہے۔ ہر شے ڈراؤنی لگتی ہے۔ کوئی بھی چیز سامنے آ جائے تو دل دھک سے رہ جاتا ہے۔ جسم پر خوف کی کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ جو پندرہ بیس منٹ بعد خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ کوئی علاج معالجہ ہے۔؟
جواب: ڈرپوک کہیں کے،
دھک دھک کرنے لگا
او مورا جیا را ڈرنے لگا
لگتا ہے آپ مادھوری ڈکشٹ کا یہ گیت بہت سنتے ہیں۔ یا آپ کی فیورٹ لسٹ میں ٹاپ پر ہے۔ بھیا یہ دنیا ہے جی داروں کی اور دلداروں کی، اور آپ نجانے کہاں کھوئے رہتے ہیں۔ کن خیالوں اور وسوسوں کو اپنے اوپر طاری رکھتے ہیں۔ اور سوچ سوچ کر دل کو دہلائے رہتے ہیں۔ ورنہ جب جب جو جو ہونا ہے تب تب وہ وہ ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ وہم کا شکار ہیں۔ سو اسے دور کیجئے۔ کیونکہ دیکھیں نا بعد میں یہ خود بخود ہی ٹھیک بھی تو ہو جاتا ہے نا۔ واقعی شکر خورے کو شکر راس نہیں آتی۔

حکیم صاحب کے آنے کا شوروغل ہو رہا ہے۔ سو اب مجھے یہاں سے نکل لینا چاہیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ:
ویلکم ٹو مائی بلاگ ۔۔۔۔ میں بلاگ پر تحاریر آپ سب کرم فرماؤں کے لیے ہی لکھتی اور شامل کرتی ہوں۔ سو ایک اچھے قاری کا فرض نبھاتے ہوئے اپنی آراء سے ضرور نوازئیے گا۔ شکریہ
 
Advertisements

9 comments on “سوال آپکے جواب ہمارے

  1. محترمہ کئنات بشیر صاحبہ

    اسلام علیکم

    مشااللہ

    آپ کے سوال و جواب کی تحریر گوکہ بہت پرانی ہے یعنی فروری ۲۱۰۲ اور یہ ہے جولائی ۵۱۰۲. کمی مجھ میں ہے کہ میں نئی وارد ہوئی ہوں. آپ کے خوشنما بلاگ کی سیر کرتے کرتے جب اس مقام پر آہی گئی ہوں تو کچھ تو لکھنا ہی پڑے گا. ورنہ بے ادبی شمار ہوگی. اور ویسے بھی میرے نام کی پلیٹ لگ چکی ہے آپ کے اس بلاگ میں. بنا کومنٹ کے یہاں سے ایکزٹ ہو جاونگی تو آپ کو پتہ لگ ہی جائے گا کی کوئی “فاطمہ خان” آپ کے بلاگ پر وزٹ کی ہوئی ہیں. تو آپ سوچیں گی..

    ” بلاگ پر آئی تھی جھوٹے منہ ایک لفظ بھی نہ لکھی اور نہائت بدتمیزی سے چلتی بنی..”

    تو ہوگا یہ کہ میرے ساتھ محترمہ کوثر بیگ صاحبہ کو بھی لتا منگیشکر کا یہ پرانا گانا… مفت میں ہوئے بدنام… گنگنانا پڑے گا. اور قارئین یہ سمجھیں گے شائد ساری حیدراباد والیاں ایسی ہی ہوتی ہونگی نہ اخلاق نہ تمیذ. آدمی زبان سے چاہے نہ کہے دل میں سوچے گا ضرور..

    اصل میں کوثر بیگ صاحبہ کے لیئے ان کے اپنے پہلے روزے کے سلسلے میں کومنٹس پوسٹ کرنے آئی تھی. پورے دو گھنٹے آپ کے خوبصورت بلاگ کی سیر کر تے اور اسکرین شاٹس لیتے ہوئے گزرے. اور اب آپ کے سخت القاب سے بچنے کے لیئے واٹس ایپ میں آپ کے سوال جواب پر تشفی بخش کومنٹس لکھ رہی ہوں.

    پہلے یہ بتائیے گا کہ آپ کیا نہیں ہیں؟ پھر میں آگے بڑھوں.!

    میرا یہ خیال ہے کہ حکیم صاحب کی طرح کل کے دن آپ کسی وکیل صاحب سے ملنے چلی جاٰئیں اور ان کو نہ پاکر انتظار میں بیٹھے ان کے کلائنٹس کو خانونی داو پیچ بتانے لگ جائنگی.

    اور اگر خیر سے کسی تھانیدار سے ملنے چلی جائیں اور انھیں نہ پاکر سب اہلکاروں کی ایسی تیسی اور کھٹیا کھڑی کرنے لگ جائنگی. پر بُرا کوئ نہ مانے گا کیونکہ آپ کے غصّہ میں حلاوت بھی ہوتی ہے. یہ میں نے آج ہی جانا ہے آپ کے سوال و جواب میں.

    صحافت سے وابسطہ فرد میں یہی خصوصیات ہونی چاہیئن جو آپ میں بدرجہ اتم ہیں. ماشااللہ.

    آپ بالی وڈ کی قاریہ بھی لگتی ہیں برجستہ مثالیں دے بیٹھتی ہیں. یہ بھی ملکہ ہے آپ میں. یعنی کہ آل راونڈر ہیں آپ. فارورڈ ہوکر بھی شاٹ لگا لیتی ہیں اور بیک فٹ پر بھی. بہت خوب. خوش مزاج بھی ہیں خوش گفتار بھی… یقیناّ لون صاحب کے ساتھ بھی اچھی گزرتی ہوگی آپ کی.

    معاف کیجیئے گا میں آپ کی ذاتیات پر اتر آئی ہوں اور اپنی بات یہیں ختم کرتی ہوں ورنہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں.. اور اس بلاگ میں آپ میرے نام کے ساتھ کہیں
    No Entry ka Tag
    نہ لگا دیں…

    اسی لیئے اجازت چاہتے ہوئے.

    اللہ حافظ

    فاطمہ خان
    فتح پور

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s