مقابلہ ہم سے نہ کرو

مقابلہ ہم سے نہ کرو


ایک بار میں نے کسی کو کہتے سنا کہ بیوقوفوں کے سر پر سینگ نہیں ہوتے۔ وہ صرف اپنی حرکتوں یا کاموں سے پہچانے جاتے ہیں۔
میں سوچنے لگی کہ آخر بات تو پتے کی ہے جس نے بھی کی ہے۔ لیکن کیا عقلمندوں، دانشمندوں کے سینے پر ایوارڈ یا تمغے سجے ہوتے ہیں، آخر وہ بھی تو اپنی باتوں اور کاموں سے ہی اپنے آپ کو ثابت کرتے ہیں۔ بیوقوف بچارے تو اپنے سیدھے پن اور بھولپن میں پھنس جاتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔ جبکہ زاویہ کتاب میں اشفاق احمد کے بابے نے آج کل کے نوجوانوں کو فرسٹریشن سے نکالنے کے لیے یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے اندر کی گھٹن نکالنے کے لیے کبھی کبھی ایک بونگی ضرور مارا کریں۔ یہ پڑھ کر میرے اندر جو پھلجڑی چھوٹی تو پوچھیے مت۔ دراصل وہ کیا ہے نا کہ سیانوں سے تو ہمیشہ کسی سیانی بات کی امید کی جاتی ہے۔ ہائے ہائے کیا زمانہ آ گیا ہے بچے تو بچے بڑوں کو بھی بونگی مارنے پر اکسایا جا رہا ہے۔ قصہ برطرف ویسے مجھے ان کی بات پسند آئی، وہ اس طرح کہ ہم سب معصومیت کے دور کو بھلا کر بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ سو ان کی بات آزماتے ہوئے میں نے بھی ایک تحریر میں اپنے مزاج کے الٹ بات لکھ دی۔ جو قاری کو تو محظوظ کر سکتی ہے اور وہ رائٹر کے بارے میں سوچ کر ہنس بھی سکتا ہے۔ تو میں نے نوٹ کیا کہ سب سے پہلے تو اپنا لکھا پڑھ کر میں نے ایک شگفتگی کی کیفیت محسوس کی اور اپنے اعصاب میں خوشگوار سی حیرت ۔ تو مجھے لگا کہ واقعی مجرب نسخہ ہے۔ تبھی ایک پہنچے ہوئے بابے کے ذریعے آیا ہے۔ آخر سیانے ایسے ہی تو نہیں کہہ گئے۔ سو آپ لوگ بھی بصد شوق اسے آزما سکتے ہیں۔ بس ضرورت ہے اپنے مزاج کے الٹ ایک بونگی مارنے کی ۔ ایسی بات جو دوسرے آپ سے ہرگز امید نہ رکھتے ہوں۔ آخر حیرت سے ان کی ہی آنکھیں پھٹیں گی اور آپ محفوظ ہی رہیں گے۔ ورنہ ۔۔

آج کے بچے بھی خرانٹ سے پیدا ہوتے ہیں۔ جنہیں آسانی سے کسی بڑے بزرگ سے ملا دیا جاتا ہے اور میں ان کے چہرے پر معصومیت ڈھونڈتی رہ جاتی ہوں۔ ایک سال کا بچہ کی بورڈ پر انگلیاں چلانی شروع کر دیتا ہے۔ اور تین سال کا بچہ لیپ ٹاپ گود میں رکھ کر کارٹون دیکھنا شروع ہو جاتا ہے اور لیپ ٹاپ کو قبل از وراثت کی طرح اپنے نام لکھوا لیتا ہے۔ پھر مجال ہے وہ کسی اور کو ہاتھ بھی لگانے دے۔

پہلے والدین اپنے ہوشیار، چالاک اور دنیا کو الٹے سیدھے جواب دینے والے بچوں کو کھلا چھوڑ دیتے تھے۔ ان کی طرف سے بے فکرے ہو جاتے تھے۔ کیونکہ انھیں پتہ تھا کہ یہ اپنا دفاع خود کر لیں گے۔ اور والدین کی طرف سے بھی ایک ان دیکھا بدلہ چکا آئیں گے اور دنیا کو ناکوں چنے چبوا دیں گے۔ ایک طرح سے ایسے بچوں کو وہ اپنی کمک کی طرح استعمال کرتے۔ اور ادھر سیدھے سادھے بھولے معصوم بچوں کے ساتھ سائے کی طرح رہتے ۔ ان کی طرف سے وہ ہمیشہ خدشے میں رہتے تھے کہ کہیں یہ معصومیت میں مارے نہ جائیں۔ لوگ انھیں بیوقوف نہ بنا لیں یا یہ کوئی بونگی مار کر دوسروں کو انٹرٹین نہ کر دیں۔ پھر دنیا والوں کا ہنسنا انھیں اپنی استہزائی لگتا تھا۔ کیونکہ لوگ بھی مزے لے لے کر وہ بات کئی بار والدین کے سامنے ہی بار بار بیان کرتے یا کسی اور کو بتاتے۔ اور بات لسی کی طرح آگے بڑھتی ہی جاتی اور ماں باپ کے لیے یہ توہین تازہ ہی رہتی۔

دنیا والوں کا فارمولا کچھ یوں بھی رہا ہے کہ بچوں کی نسبت سے ماں باپ کو نمبر بھی دئیے جاتے ہیں۔ چالاک بچوں کو دیکھ کر والدین کو بھی پوزیٹو پوائنٹ مل جاتے ہیں۔ کہ وہ بھی چالاک، ہوشیار اور زمانہ ساز ہوں گے۔ اور معصوم بھولے بھالے بچوں کو دیکھ کر والدین کا گراف بھی نیچے آ جاتا ہے۔ لوگ منہ پر کہہ دیتے ہیں کہ حضرت آپ کے تو بچے بڑے سیدھے ہیں انھیں تو زمانے کی ہوا ہی نہیں لگی۔ پھر وہ ہوا والدین کو خود انھیں لگوانی پڑتی ہے کبھی لیکچر دے کر اور کبھی چھترول کے ذریعے، ایک ہوشیار چالاک والدین کے سپوت نے معصومیت میں کہہ دیا کہ دادی امی وہ سامنے روڈ پر ادھر سے ایک بس آ رہی ہے۔ وہ دیکھیں دوسری طرف سے بھی ایک بس آ رہی ہے ۔۔۔ دیکھنا اب ان دونوں کی ٹکر ہو جائے گی۔ اور دادی جان جو بڑے دلار سے پوتے کی بات سن رہی تھیں، یکدم ہائے ہائے کرنے لگ پڑیں اور دعائے خیر مانگنے لگیں۔ یہ بات جب مذاق میں آگے ہی آگے گئی تو کسی کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ فلاں کے بیٹے نے کہی ہے۔

کبھی کبھی ستم ظریفی ایسی بھی ہوتی ہے ،
کہ یہ خود ساختہ فارمولے کسی کام کے نہیں رہتے۔ اکثر سیدھے سادے شریف لوگوں کے گھر دنیا کو نچانے والے پیدا ہو جاتے ہیں۔ میں شروع سے ایک ایسی فیملی کو جانتی ہوں، جہاں سیدھے سادے بے ضرر شریف سے والدین کے گھر چار آفت کے پرکالے پیدا ہو گئے۔ جو اپنی شرارتوں سے سب کا ناک میں دم کیے رکھتے۔ روز ایک نئی شرارت ایک نیا وبال۔ کئی بار لوگ انکی شکایت لے کر ان کے گھر جانے کی سوچتے مگر انکے سوکھے کمزور شریف سے باپ اور چپ کا روزہ رکھتی ماں کا خیال کر کے اپنے ارادے کو عملی جامہ نہ پہناتے۔ ممکن ہے وہ یہ بھی سوچتے ہوں کہ یہ شیطان صفت والدین کے کنٹرول میں بھی کہاں ہوں گے۔
ایک بار وہ مداری کہیں کے ایک نیولا بھی اپنے کھیلنے کے لیے لے آئے۔ جس سے بڑے لوگ بھی خوف کھاتے مگر وہ اس سے کھیلتے اور اکثر کسی دوسرے بندے کی بہادری آزمانے کے لیے اس پر چھوڑ دیتے اور خود مزا لیتے۔ ایک بار کسی گھر میں مہمان آیا۔ گرمی کا موسم تھا۔ فیملی بڑی تھی۔ گھر والوں نےگھر سے منسلک گارڈن میں مہمان کا بستر چارپائی لگا دی۔ آدھی رات کو مہمان کے سوتے ہی یہ چلبلے، نٹ کھٹ بمثل کہار مہمان کی چارپائی اٹھا کر ڈیڑھ دو کلو میٹر دور ایک پارک میں رکھ آئے۔

سو خیر قصہ المختصر، آج کے دور کا تقاضا تو یہی ہے کہ بندے کو ذرا چالاک، ہوشیار ہی ہونا چائیے کیونکہ یہ دنیا ایک آزمائش گاہ ہے جہاں قدم قدم پر امتحان ہے اور یہ دنیا سیدھے سادے لوگوں کی نہیں۔ ورنہ لوگ انھیں حلوہ سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ جلد دوسروں کی چالاکی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اس دنیا میں جینا ہے تو جینے کا وصف بھی آنا چائیے۔
میرے بابا جان نے بھی یہی کہا تھا کہ دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا تو میرے پیارے بابا، وہ تو میں شروع سے جھولے سے ہی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Advertisements

2 comments on “مقابلہ ہم سے نہ کرو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s