سرمہ اور کاجل

سرمہ اور کاجل

سرمہ میرا نرالا آنکھوں میں جس نے ڈالا
جیون ہوا اجالا ہے کوئی نظر والا

اسلام علیکم،
مہربان، قدر دان تے پائی جان،
اکھیاں والیو، اکھیاں بڑی نیامت نے ۔۔۔۔ تو اس نیامت کی حفاظت بھی کرو نا۔ اگر آنکھوں میں درد ہو، سوجن ہو، آنکھ بوٹی کی طرح لال ہو اور اس سے موسلا دھار برسات ہو، آنکھوں میں ککرے شکرے ہوں۔ لگے کسی نے مٹھی بھر ریت آپکی آنکھ میں پھینک دی ہو۔ قریب کی چیز دور نظر آئے اور دور کی چیز کے لیے آنکھوں کے آگے تنمبو تن جائے۔ موتیا شوتیا اترنے کو ہو تو فکر کی بات تو ہے۔ لیکن سوہنیو، موتیاں والیو میرے ہوتے ہوئے بالکل بھی گھبرانے شبھرانے کی بات نہیں ورنہ لاکھ لعنت میری زندگی پہ، میرے پاس ہے ایک جادوئی ٹوٹکہ، خاندانی نسخہ، جو پرم پرا سے ہوتا میرے دادا تک پہنچا اور وہاں سے ہتھو ہتھھ مجھ تک پہنچ گیا ہے۔ اور جسے میں اپنے جیسے بھین بھراؤں تک پہنچا رہا ہوں۔ بہت ہی سستا بہت ہی ارزاں، بہت ہی کم کا تے بوت ای کار کا، پیسے نہ ہونے کے برابر، بس اتنے کہ میرا کرایہ نکل پڑے۔ آخر کو گھر بھی جانا ہے۔ اور گھروالی کو گھار میں رہنے کھانے پینے اور سونے جاگنے کا کرایہ بھی دینا ہے اور بچوں کو جگا ٹیکس۔ ایک شیشی کی قیمت میربان صرف بیس روپے بیس روپے۔ اپنی اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال کے بٹوے ٹٹول لو کہ کہیں مت تو نہیں ماری گئی میرا مطبل جیب تو نہیں کٹ گئی اور ساتھ ہی سرمے کے پیسے بھی نکال لو۔ میں ابھی باری باری آپ تک پہنچتا ہوں۔ اور اس نایاب سرمہ ڈالنے کے لیے سرمہ کی سلائی آپکو فری میں ملے گی۔ دل چاہے تو میرا بھرا ایک سلائی بےشک ابھی ڈال لو۔ دوسری سلائی گھر جا کر ڈال لینا۔ آرام نہ آئے تو پکی گارانٹی دیتا ہوں سرمہ واپس کر دینا اور پیسے لے جانا۔
یہ وہ مہربان تھے جو بس اور کوچ میں اچانک ڈاکٹر کی طرح چھاپہ مارتے کہ کہیں لوگ آشوب چشم کے ساتھ سفر تو نہیں کر رہے۔ اور موقع بھی اچھا۔۔۔ ادھر بس دوسری بس سے ریس لگا رہی ہوتی ہے اور یہ ایک استاد کی طرح کھڑے ہو جاتے۔ ہر طرح کے چھوٹے بڑے موٹے پتلے طالب علم ان کے سامنے موجود ہوتے۔ اور تعلیم بالغاں کی کلاس شروع ہو جاتی۔ مائیں بھی بچوں کے ایک دو ٹکا کے چپ کرا دیتیں اور ہمہ تن گوش ہو جاتیں۔ اور بس میں لوگ سرمہ خریدیں نہ خریدیں لیکن ان کا لیکچر ضرور دھیان سے سنتے۔ آخر جانکاری میں اضافہ تو بہرحال ہوتا ہی ہے کہ آنکھوں کو مزید اور کون کونسی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

سرمے کا اک روپ کاجل بھی ہے۔ جسے یقینا آنکھوں کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے دریافت کیا گیا۔ اور وہ بیوٹیشن تھی قلوپطرہ، یہ اسی کی ایجاد ہے۔ جو ویلی کم کی نہ کار کی آئینے میں دیکھتی رہتی تھی کہ اب کینوس تو جیسے تیسے بھی بن گیا اب اس فریم میں مزید کیا رنگ بھر سکتی ہوں۔ تبھی اسکا برش آنکھوں پہ جا ٹھہرا تھا۔ ویسے مجھے وہ بڑی ایک کری ایٹو عورت لگی جس نے اپنا وقت فضول باتوں، چغلیوں اور خاندانی سیاستوں میں ضائع کرنے کی بجائے اسے ایسے کام میں لگایا کہ عورتوں میں اسکی بلے بلے بھی ہو گئی۔ اسکا نام بھی آج تک زندہ و جاوداں ہے۔ شہرت بونس میں اسے ملی۔ اس لیے آج بھی قلو پطرہ کاجل بہت مشہور ہے۔ جس سے سب سے پہلے اس نے اپنی ہی آنکھیں کجراری بنائیں۔ بلاشبہ یہ جس پر جچتا تھا اس کی آنکھیں نین کٹار بن جاتی تھیں۔ ورنہ اس سے پہلے فلم کی ہیروئن کسی دوسری عورت کے نینوں کے وارسے ہی ڈر جاتی تھی اور سیاں کو تاکید کرتی کہ، مار کٹاری مر جانا یہ اکھیاں کسی سے نہ ملانا۔ اورجوابا سیاں کا کہنا تھا ڈونٹ وری، گوری تورے نیناں ہیں جادو بھرے ہم پہ سو سو ظلم کریں۔ مگر اس کاجل نے آ کر اور ہی سیاپا ڈال دیا۔ کہ کجرا محبت والا اکھیوں میں ایسا ڈالا کجرے نے لے لی میری جان، ہائے رے میں تیرے قربان،

فلم روڈالی میں راج ببر صحرا میں ڈمپل کپاڈیا کے ہاتھوں گھاگر سے پانی پیتے ہوئے بے اختیاراسکی کاجل بھری اور تیکھی نظروں کا شکار ہو گیا تھا۔ خود ہی سوچیں اگر ہیروئن کی آنکھیں صحرا ہی کی طرح خالی اور بنجر ہوتیں تو ہیرو شائد اس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالتا۔ اور دوبارہ اسکی طرف دیکھتا بھی نہ، سو کیوپڈ کے اس تیر لگنے میں کاجل نے اہم رول ادا کیا تھا۔

شرمیلا ٹیگور اور ریکھا کے بارے میں تو مشہور تھا کہ یہ بولیں یا نہ بولیں ان کی آنکھیں خود ہی باتیں کرتی ہیں۔ اور اک فسانہ بیان کر دیتی ہیں۔ یقینا اس ان کہی داستان میں کاجل کا بھی بڑا رول ہو گا۔

ویسے اس بات سے تو کوئی بھی انکاری نہیں کہ یہ عورت کے سنگھار کا ایک بہت اہم جز ہے۔ جس سے چھوٹی آنکھیں بڑی دکھائی جا سکتی ہیں اور موٹی آنکھوں کی خوبصورتی مزید بڑھ جاتی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ یہ خالص زنانہ فیشن ہے کچھ مرد حضرات بھی اسے آنکھوں میں لگا لیتے۔ اور وہ دوسروں کے لیے سرمے والی سرکار بن جاتے۔ پہلے مائیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی لٹا کر زبردستی ان کی آنکھوں میں سرمے کی سلائی گھسیڑ دیتی تھیں۔ اور بچے اس زبردستی پر روتے ہی رہ جاتے تھے۔ اور وہ سرمہ بھی بطور احتجاج آنکھوں سے نکل کر گالوں پر پھیل جاتا تھا۔ اور ماں کا لاڈلا شہزادہ لگنے کی بجائے اک بھوت نظر آنے لگتا تھا۔ اسی لیے بچے ماں کے ہاتھ میں سرمے کی سلائی دیکھتے ہی یا تو فرار ہونے کی کوشش کرتے یا اسے ایسے دیکھتے جیسے انھوں نے ڈاکٹر کے ہاتھوں انجکشن کی سوئی دیکھ لی ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ سرمہ لگانے سے آنکھیں صاف شفاف ہو جاتی ہیں۔ اور کچھ کا بیان تھا کہ سرمہ لگانے سے آنکھیں موٹی ہوتی ہیں۔ ہاں بھئی جب موٹی سی سلائی زبردستی آنکھوں میں ڈال دی جائے گی تو وہ پھیل کر موٹی ہی ہوں گی۔ شائد دیدے پھیلانا محاورہ بھی اسی سے ہی بنا ہو گا نی،

ویسے یہ سرمہ، کاجل ہے کمال کی چیز، کسی ٹی وی پروگرام میں جب کوئی ماڈل میک اپ کے جوہر دکھانے کے لیے ناظرین کے سامنے لائی جاتی ہے، تو وہ بالکل پھیکے شلجم کی طرح نظر آتی ہے۔ پھر فاونڈیشن اس کے اترے چہرے کو بہتر لک تو دیتی ہے لیکن پھر بھی ابھی اک تشنگی ابھی باقی ہے کا احساس حاوی رہتا ہے۔ پرجیسے ہی اس کی آنکھ میں کاجل لگایا جاتا ہے۔ تو صاف لگتا ہے کہ اب میک اپ اپنا کچھ کمال دکھانے لگا ہے۔ اور بیوٹیشن کے ہاتھوں میں بھی کچھ دم ہے۔

سرمہ، کاجل، آئی پنسل، مسکارا، آئی شیڈ، ہائی لائٹ، اف خدایا ایک آنکھ اور ہزار ستم، پہلی حسینائیں تبت سنو کریم لگانے کے بعد صرف سرمہ یا کاجل لگا کر فارغ ہو جاتی تھیں اور اسے لگاتے ہوئے آنکھ کے باہر ایک لمبی سی رسی نما لکیر کھینچتی چلی جاتی تھیں۔ اللہ جانے کیوں؟ اس سے انھوں نے کس کو باندھنا تھا۔

دادی ماں اور نانی ماں کے لیے مکے مدینے کے سرمے کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ اور لوگ آب زم زم کے علاوہ سرمے کی ڈلیاں بھی سعودی عرب سے لایا کرتے۔ یا لا کر تبرک کی طرح اسے تقسیم کرتے تھے۔

اب تو سرمہ قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ آئی پنسلز استعمال کی جاتی ہیں۔ سو اب چاہے یہ کاجل ہو یا سرمہ یا آئی پنسل، لیکن تینوں کا کام تو ایک ہی ہے۔ ویسے تو کاجل ایک چھوٹی سی ڈبیا میں بھی سما جاتا ہے۔ اور کچھ عورتیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی مدد سے ہی بڑی نفاست سے اسے آنکھوں میں سمو لیتی ہیں۔ طریقہ جاننا ہے تو فلم صاحب بی بی اور غلام میں ملاحظہ فرمائیے۔ اور جس طرح سیندور رکھنے کے لیے خوبصورت سی ڈبیا کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح سرمہ رکھنے کے لیے سرمے دانی کی ضرورت بھی ہمیشہ سے تھی اور جہیز میں بھی لازمی دی جاتی تھی۔ سو اس سرمہ دانی کو بھی بڑے جدید اور نئے نئے ڈیزائن سے بنایا جاتا تھا۔ جس میں سرمہ محفوظ اور سٹور ہو جاتا تھا۔ اور سرمہ لگانے کی سلائی اس میں فری فٹ ہو جاتی تھی۔ ہے نا ٹو ان ون چیز۔

اس سرمہ دانی سے ایک یاد بھی وابستہ ہے۔ اس کے چشم دید گواہوں میں میرے بھائی شامل تھے۔ سو وہ مزے سے سنایا کرتے ہیں۔ کہ ایک بار بچپن میں کسی کتاب سے پڑھ کر خاندان کے ایک بزرگ نے بچوں کو نیو ائیر پر پٹاخے چلانے کا مسالا تیار کر دیا۔ نیو ائیر آیا۔ سب رات کے انتظارمیں رہے۔ تا کہ جلدی سے پٹاخے وغیرہ چلائے جائیں۔ سب مرد حضرات نماز پڑھنے چلے گئے۔ تو بچوں نے سوچا خود ہی یہ مسالا استعمال کر کے پٹاخے چلانے کی کوشش کی جائے۔ پر کیسے؟ تو ایک مشورہ آیا کہ اسے کسی خالی سرمہ دانی میں ڈال لیا جائے اور پھر اسے آگ دکھائی جائے تو یہ سرمہ دانی سے نکل کر آہستہ آہستہ اناراور پھلجھڑی کی طرح چلے گا۔ چنانچہ سرمہ دانی میں مسالا بھر کر اسے آدھا زمین میں گاڑ دیا گیا۔ خاندان کی سب عورتوں اور قریبی لوگوں کو یہ تماشا دیکھنے کی دعوت دی گئی۔ تو آ کرسب بالکل قریب ہی ایک دائرہ بنا کر دیکھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اور شائقین میں سے ایک نے اسے ماچس کی تیلی دکھائی۔ تو اسکے ساتھ ہی ایک دل دہلا دینے والا بم کا دھماکہ ہوا۔ اور سرمے دانی درمیان سے پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک حصہ زمین پر ہی رہا اور دوسرا شرل کر کے آسمان کی بلندیوں میں کہیں کھو گیا۔ اوراگلے روز وہ پڑوس کے چوتھے گھر سے برآمد ہوا۔ اس طرح یہ ایک خطرناک، سبق آموزاور عبرت انگیز تجربہ ثابت ہوا۔ سو آپ ایسا تجربہ کرنے کی کوشش مت کیجئے گا۔ اور سرمہ دانی میں صرف سرمہ ہی ڈالیے گا۔ اگر آپ سرمے والی سرکار ہیں تو، ورنہ اب یہ عنقا سی چیز ہوتی جا رہی ہے۔ یا میڈیکل کی کوئی چیز بنتی جا رہی ہے۔ جسے رات کو لگا لیا جاتا ہے اور دن کو چھپا لیا جاتا ہے۔

ویسے سرمہ کا ایک استعمال عامل لوگوں نے بھی کیا ہے اپنے موکل کو ایک خاص سرمہ عنایت کر کے۔ کہ یہ سرمہ لگا کر محبوب کے سامنے جائیے اور محبوب آپ کے قدموں میں ہو گا۔ اب پتہ نہیں کہ محبوب قدموں میں ہوا کہ نہیں۔ لیکن پھر بھی بہت سارے ناموں سے اس کی ایجاد ضرور ہوئی۔ جن میں ہاشمی سرمہ بھی کافی مشہور ہوا۔ اور بہت سارے سرمہ سیلرز نے یہ دعوی بھی کیا کہ آنکھ میں صرف ایک سلائی لگائیے اور جیون کا مزہ پائیے ۔ یہ آپکی جاتی ہوئی نظر کو واپس لے آئے گا۔ ویسے اس میں کتنی سچائی ہے۔ جاننے کے لیے آپ بھی آنکھوں میں سرمہ لگا کر دیکھ لیجئے۔

کائنات بشیر
********

Advertisements

3 comments on “سرمہ اور کاجل

  1. بہت خوب۔۔۔ سرمہ تو واقعی اب عنقا ہوتا جا رہا ہے۔ میری ایک بھابی کہتی ہیں کہ سرمہ بچوں کی آنکھوں کیلئے ٹھیک نہیں ہوتا۔۔ اور دوسری کہتی ہیں کہ سرمے کے بغیر آنکھیں ادھوری رہتی ہیں۔ اس لئے کبھی بچوں کی آنکھوں میں سرمہ نظر آ جاتا ہے اور کبھی نہیں۔۔۔۔ ایک بات تو ہے کہ سرمے سے چھوٹے بچوں کی آنکھیں خوبصورت لگتی ہیں، اور وہ صاف ستھرے لگتے ہیں۔ باقی اب بھی مولوی حضرات سرمہ لگانے کی سنت خوب پوری کرتے ہیں۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s