آج کا دن

میں نے زندگی جب بھی اپنے مہربان والد صاحب کے اصولوں مطابق گزاری تو اپنے کو ہمیشہ سکھی محسوس کیا ۔ ان کا ہمیشہ سے یہ کہنا رہا کہ آج کا کام کل پر مت ڈالو کیونکہ کل بھی تو یہ کام تمہیں ہی کرنا ہے تو پھر آج کیوں نہیں؟

موسم گرما کی تعطیلات شروع ہوئیں تو مہمانوں کی آمد مہمانداری، سیرو تفریح بھی شروع ہو گیا۔ اور جب مہمان کچھ ویک کے بعد چلے گئے تو دیکھا کہ رمضان کی آمد ہے اس کی تیاریاں، گھر کو اچھی طرح صاف کرنا اور کئی اضافی کام نظر آئے اور کپٹروں کا ایک ڈھیر نظر آیا۔ جو واشنگ کے بعد استری کرنے کے مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ نارمل حالات میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ سو روز مجھے دیکھ کر لگتا کہ وہ کپڑوں کا ڈھیر میرا منہ چڑا رہا ہے۔ رمضان بھی شروع ہو چکا تھا اور موسم بھی کچھ گرم ہو رہا تھا۔ ویک نیس کی صورت میں ول پاور بھی کمزور پڑنے لگتی۔ معمولات زندگی جاری تھے اور وہ ڈھیر کوفت کا درجہ پھلانگ کر اعصاب کو ٹچ کرنے لگا تھا۔
سو یہ ہمت کر ہی لی۔ اور اس ڈھیر کو بیڈ پر لا پھیلایا اور اس کام کو ذرا منظم طریقے سے کرنے بارے سوچا۔ ورنہ پہلے تو جب بھی استری کی جاتی جو بھی کپڑا ٹاس جیتے کپڑے کی طرح ہاتھ میں آ جاتا۔ استری کی زد میں بھی آ جاتا۔ اب کی بار میں نے کپڑوں کی چھانٹی شروع کر دی۔ بیڈ کورز بھاری کپڑے ایک طرٖف ہلکے پھلکے ایزی ایک طرف۔ کچھ دیر بعد جب دوبارہ نظر کی تو وہ ڈھیر کئی چھوٹی چھوٹی ڈھیریوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اور ساتھ ہی میں نے محسوس کیا کہ یہ معاملہ بھی میرے اعصاب سے کافی حد تک باہر نکل چکا تھا۔ اور ڈھیریوں کی شکل میں وہ اب میرے سامنے واضح حالت میں تھے اور اب مجھے انھیں آئرن کرنا بھی اتنا مشکل نہیں لگ رہا تھا۔ پھر میں دوسرے کاموں کے دوران بیچ بیچ میں آ کر ایک ڈھیری آئرن کر جاتی۔ یوں وہ تمام کپڑے جو مجھے کئی دن سے کوفت میں مبتلا کر رہے تھے۔ ایک دن میں ہی نپٹ بھی گئے۔ اب یقینا رات کو سونے سے پہلے مطالعہ بھی  خوشگوار کیفیت میں ہو گا۔ تو اس سے مجھے یہ سبق ملا کہ آئندہ ایسے کام کو کبھی بھی اتنا بڑھنے نہ دیا جائے کہ وہ ایک عفریت کی طرح آپکے اعصاب پر سوار ہونے لگے۔

آئرن کرتے ہوئے میرے سامنے زندگی کی حقیقت بھی واضح ہو رہی تھی۔ کہ ہماری زندگی کے مسائل اور پرابلمز بھی اسی رخ پر فوکس ہیں۔ کہ اول تو انھیں کنٹرول سے باہر نہ ہونے دیا جائے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو مسائل الجھنوں کو مختلف خانوں میں فٹ کر لیجئے۔ اور جلدی توجہ طلب معاملوں کو پہلے نپٹایا جائے اور باقی ترتیب وار نپٹاتے جائیں اور جن مسائل کا حل سمجھ پہنچ سے باہر ہو۔ اسے آخری خانے میں فٹ کر دیں۔  اللہ پر چھوڑ دیں۔ اس کی ذات مسبب لااسباب ہے۔ یقینا اس کی مدد سے وقت اور حالات کا بہاؤ انھیں حل کر دے گا۔

Advertisements

2 comments on “آج کا دن

  1. ماشاءاللہ تعمیری سوچ اور مثت نتیجہ آپ نے نکالا ہے۔
    صرف ایک گزارش ہے ۔ اگر ناگوار خاطر نہ گزرے ۔ کہ اردو میں انگریزی کے الفاظ سے گریز کریں، تاوقتیکہ کسی خاص مجبوری یا اردو میں متبادل لفظ یا اصطلاح نہ ملنے پہ اسے انگریزی میں بیاں کرنا ضروری ہوجائے۔ مثلا۔ ۔ ۔ ۔واشنگ کے بعد یعنی “دھونے” کے بعد۔ ۔ ۔ بیڈ۔ پلنگ ۔ ۔ ٹچ۔۔۔ چھونا۔ ۔ ۔ فوکس ۔ مرکوز۔۔۔ کنٹرول۔۔ اختیار۔ ۔ ۔پرابلمز ۔ مشکلات۔۔۔۔۔۔ آئرن ۔ استری ۔۔ الجھنوں کو مختلف خانوں میں فٹ کر لیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الجھنوں کو مختلف خانوں میں بانت لیں۔

    اسکے علاوہ آپ بہت اچھا لکھتی ہیں۔ اور آپکی یہ تحریر بہت مثبت اثر چھوڑتی ہے

    Like

    • بہت شکریہ جاوید بھائی،
      آپ نے جس نکتے کی جانب توجہ دلائی اسے پکڑ میں لانے کی کوشش کروں گی۔ دراصل جو الفاظ بول چال میں بھی ہم انگلش میں استعمال کر جاتے ہیں۔ ان پر زباں اتنی رواں ہے کہ وہی لکھے بھی جاتے ہیں۔

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s