ہمارا رویہ

ہمارا رویہ  

زندگی کے بہتے بہاو میں ہمیں بہت سی چیزوں اور باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ چیزیں ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہوتی ہیں اس لیے ان سے تو آنکھ چرانا ممکن نہیں لیکن کچھ باتیں ہماری زندگی میں سائیڈ فلم کے طور چل رہی ہوتی ہیں، جن پر اگر غور نہ کیا جائے تو ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ان میں ہماری ذات کے کونسے پہلو پنہاں ہیں۔ انھی میں ایک بہت اہم بات ہے ہمارا رویہ، کیونکہ یہ کسی بھی انسان کے،
موڈ کو ظاہر کرتا ہے،
اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے،
اس کی اخلاقیات کو نمایاں کرتا ہے،
اس کی ذات کا مثبت یا منفی پہلو دکھاتا ہے،
دوسرے لوگوں کے ساتھ اس کا رشتہ اور تعلق واضح کرتا ہے۔
معاشرے میں اس کے کردار کو واضح اور نمایاں کرتا ہے۔

تو یہ رویہ جو اپنے آپ میں اتنی حقیقتیں لیے ہوئے ہے اسے اکثر پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اور بندہ صرف اپنے دل کی بات سننے اور ماننے میں اتنا آگے پہنچ جاتا ہے کہ اپنا رویہ کہیں رکھ کر بھول جاتا ہے۔ اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں وہ دوسروں کے حقوق اور اپنے تعلق کو کہیں طاق میں رکھ دیتا ہے۔ اپنی۔۔۔ میں ۔۔۔ کو دکھانے میں اس کا غلط استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ کچھ باتوں اور سلسلوں میں ہمیشہ دوسروں کی پہل کے انتظار میں رہتا ہے۔ اور خود کبھی کبھی انجانے میں کسی کی حق تلفی  کر بیٹھتا ہے اور اپنی شخصیت کے خاص پہلو کو تاریکی میں دھکیل دیتا ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ وہ اک نیکی کمانے کا موقع گنوا دیتا ہے اور وہ لمحہ اس کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ حتی کہ سلام جیسے مقدس بول کی ابتدا کے لیے بھی وہ دوسروں کی جانب سے منتظر رہتا ہے۔ اور آغاز گفتگو کے لیے بھی وہ اوروں کی جانب سے پہل کا متمنی ہوتا ہے اور اکثر اسے اپنی انا کا مسئلہ بھی بنا لیتا ہے۔

جس طرح مالی باغ میں موسسم کے حساب سے درخت کو چھانگ رہا ہوتا ہے اور اس کی بے کار شاخوں کو تراش دیتا ہے اور نئے پھل پھولوں کے لیے اسے تیار کر دیتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے اندر بھی مالی جیسے اوصاف موجود ہیں اور اس کا جسم و جاں بھی بمثل درخت ہے تو اس کی دیکھ ریکھ بھی ضروری ہے، اس کے مزاج میں بھی پھولوں جیسی ملائمت اور شگفتگی کی ضرورت ہے تو اس کی بے کار شاخیں ہم اپنے تجزیے اور رویے سے ہی تراش سکتے ہیں۔

سو وقت کے پھسلتے لمحوں سے کچھ پل تھام کر تجزیہ کیجئے کہ

کہیں آپ اپنے تکبرانہ رویے سے کسی کو ہرٹ تو نہیں کر رہے ؟

سلام میں اولیت اور دوسروں کے معاملات میں معاونی رویہ نہ دے کر آپ اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیاں کمانے کے وسیلے تو نہیں ختم کر رہے ؟

اپنی بیمار سوچوں، غیر صحتمند عادتوں اور دوسروں کے لیے تلخ اور بدصورت رویوں کی بدولت باعث زحمت تو نہیں بن رہے ؟

لمحہ فکریہ ہے تو اپنے رویوں کی دیکھ بھال کیجئے۔

نفسا نفسی اور خود غرضی کی پٹی اتار پھینکیے اور رویوں سے متعلق اپنے معاملات قابل قبول بنائیے۔

اسے پھلنے پھولنے کی کھاد ڈالیے اور نئی امید کے پانی سے سیراب کریں۔ اور اگلی نسل کو اک خوبصورت تحفہ دیجئے۔ اچھا سوچیں گے اچھا کریں گے تو اچھا ہونے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ امید کی لہلہاتی کھیتی بھی آباد رہے گی۔

اپنی شخصیت کو ایسے سجائیے جیسے پرفیوم کی بھینی بھینی خوشبو لوگوں کو آپ کے معطر وجود کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ اسی طرح آپ کا مثبت رویہ بھی انھیں آپ کے ہونے کا احساس دلاتا رہے گا۔ باعث زحمت بننے سے کہیں اچھا ہے کہ باعث رحمت بنا جائے اور اپنے حصے کی نیکیاں حاصل کی جائیں۔

سو دوسروں کو بدلنے اور اپنی امیدوں پر پورا اتروانے کی بجائے خود معاشرے میں اپنے اچھے اور مثبت رویے کا کردار واضح کیجئے کیونکہ کسی بھی معاشرے کے لوگوں کا رویہ ہمیشہ ایک اہم رول ادا کرتا ہے مزے کی بات یہ کہ اس رویے کو کنٹرول کرنے کی چابی بھی انھی کے پاس ہوتی ہے۔

کائنات بشیر

********

Advertisements

4 comments on “ہمارا رویہ

  1. ہمیشہ کی طرح آجکی تحریر بھی میٹھی سی ہے۔ آپنے بالکل سہی کہا کہ انسان نجانے میں بہت کچھ ایسا کر جاتا ہے کہ جس سے کوئی دوسرا انسان بہت دُکھتا ہے اور اُسکے دل کی کھیتی تباہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ ہمیں اپنے رویے پر خاص توجہ دینی چاہئیے۔

    Like

  2. واہ

    بہت خوب

    کیا ہی خوب عکّاسی کی ہے آپ نے اپنے رویّوں کی سبحان اللہ

    شاہ کار تحریر ہے

    Not only one Two Thums-Ups

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s