دال کا پیالہ

دال کا پیالہ

بہت سالوں سے یہ بات اک روایت کی طرح چلی آ رہی تھی۔
اقلیتوں کے ساتھ سماج کا سلوک اور برتاو، جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ جنہیں کسی اچھوت کنیا کی طرح سمجھا جاتا کہ
ان کے ساتھ کوئی کپڑا یا برتن نہیں لگنا چاہیے ورنہ وہ پلید ہو جائے گا ناپاک ہو جائے گا۔ ستم در ستم اقلیتیں خود بھی اس حقیقت کو مان کر اپنے آپ کو ایک دائرے کی حدود میں رکھتی تھیں۔نہ کوئی اختلاف کرنے والا اور نہ کوئی احتجاج کرنے والا اور معاشرے کی واضح اقلیت عیسائی کرسچئن لوگ تھے۔ کئی سال پہلے کی بات ہے ایک آبادی والے علاقے سے ہٹ کر ایک فیکٹری ایریا ہوا کرتا تھا۔ جہاں بہت سے کارخانے اور فیکٹریاں ہوا کرتی تھیں۔ صبح ہوتے ہی اس علاقے میں مزدوروں کی آمد ہونے لگتی۔ پھر مشینوں کا شور شرابا شروع ہو جاتا اور سارا دن جو تھا تھیا چلتا تو شام ڈھلے ہی جا کر یہ ہنگامہ رکتا۔ انھی کارخانوں اور فیکٹریوں کے بیچ ایک ڈھابہ بھی موجود تھا۔ لوکیشن کے حساب سے تو مس فٹ مگر بہت کار آمد،جب دوپہر کے وقت مزدوروں کو چھٹی ملتی تو یہاں اک رش کا سماں بندھ جاتا۔جس آدمی کا یہ ڈھابہ تھا اسے سب سائیں کہتے تھے سو یہ ڈھابہ بھی سائیں کے ڈھابے کے نام سے مشہور تھا۔
راہ چلتے مسافروں اور ورکرز کے لیے کیسی نعمت سے کم نہ تھا۔ جہاں دوپہر کو انھیں گرم دال روٹی مناسب پیسوں میں مہیا ہو جاتی تھی۔اس ڈھابے کی خاص ڈش چنے کی دال تھی جسے وہ سائیں خود بڑے خاص طریقے سے دل لگا کر بڑے سے دیگ نما پتیلے میں پکاتا تھا۔خوب گھوٹ کر مزیدار سا تڑکا دیتاتو گرم تندوری روٹی کے ساتھ وہ دال بہت مزہ دیتی۔

یہ روز کا معمول تھا کہ دوپہر کھانے کے اوقات سے پہلے پہلے وہ اپنی سپیشل دال تیار کر لیتا۔اور دو تین لڑکوں سے تندور میں روٹیاں لگوانا شروع کرواتا اور خود دال کے پتیلے کے آگے بیٹھ جاتا اور جیسے ہی مزدور آنا شروع ہوتے تو وہ روٹی کھولتا۔اور اتنے رش اور شور شرابے میں وہ سب کی پلیٹوں میں دال ڈال کر انھیں بھگتائے جاتا۔
یہیں پر ایک فیکٹری میں ایک عیسائی لڑکا بھی کام کرتا تھا، جس کی عمر گیارہ یا بارہ سال تھی۔ غموما وہ کھانا گھر سے ساتھ لے کر آتا تھا۔ مگر کبھی کبھار وہ آگے پیچھے کے اوقات میں ڈھابے پر دال لینے بھی چلا جاتا۔تو اپنا خاص برتن ایک پیالہ ساتھ لے جاتا تھا۔ اور سائیں دو فٹ اوپر کے فاصلے سے اپنے کفگیر سےدال اس کے پیالے میں ڈال دیتا۔ اس طرح دونوں کا مطلب پورا ہو جاتا۔

کرنی خدا کی، ایک روز ایسا ہوا کہ وہ عیسائی لڑکا دوپہر کو ہی اس کے ڈھابے پر اپنا خاص پیالہ لے کر دال لینے چلا گیا۔ سائیں روز کی مانند اپنے پتیلے کے آگے بیٹھا تھا۔ چھٹی کا وقت تھا اور مسافر اور مزدوروں کا رش لگا ہوا تھا، سائیں ان کے درمیان بیٹھا اپنے کام میں مصروف تھا۔ شور شرابا جاری تھا ہر کوئی پہلے میں کے چکر میں دال حاصل کرنے کی کوشش میں تھا۔
سائیں پہلے مجھے دال۔۔۔
نہیں سائیں پہلے مجھے دو۔۔۔
او سائیں چھٹی کا وقت ختم ہو جائے گا پہلے مجھے۔۔۔۔
ہر طرف سائیں اور دال کی پکار ہو رہی تھی۔ وہ لڑکا بےچارہ حیران پریشان دیکھ رہا تھا۔پھر کچھ سوچ کر ہمت کر کے وہ بھی لوگوں کی بھیڑ میں گھستے ہوئے آگے جانے کی کوشش کرنے لگا۔ اور اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھا کر بولا
سائیں مجھے بھی دال دو ۔۔۔
پر اتنے شورشرابے میں اس کی کمزور سی آواز کہاں سائیں تک پہنچتی۔ بلکہ الٹا دھکم پیل میں دھکا لگنے سے اس کا پیالہ ہاتھ سے چھٹ کر دال والے پتیلے میں گر گیا۔ یہ دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہو گیا وہ بری طرح گھبرا گیا۔ اب یا تو خود اسے پتہ تھا یا سائیں کو کہ وہ عیسائی ہے۔ سو اس سے پہلے کہ سائیں کی اس پر نظر پڑتی اور کوئی فساد برپا ہوتا۔اس نے گبھرا کر وہاں سے دوڑ لگا دی۔

دال تو کیا ملنی تھی وہ پیالہ بھی چھوڑ آیا تھا۔بھوکا علیحدہ رہنا پڑا اور یہ خدشہ بھی ستاتا رہا۔کہ کہیں سائیں اور لوگوں کو پتہ نہ چل گیا ہو۔

دوسرے دن صبح اس نے ڈرتے ڈرتے ڈھابے کی طرف چکر لگایا تو سائیں کل والا دال کا پتیلہ مانجھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ بڑبڑا رہا تھا کہ یہ پتہ نہیں کل کون دال لینے آیا تھااور اپنا پیالہ ہی یہاں چھوڑ گیا۔ اور پاس ہی وہ پیالہ بھی صاف دھلا پڑا تھا۔
سائیں کو حقیقت کا پتہ نہیں چلا یہ سن کر اس کی جان میں جان آئی۔اور وہ اپنا پیالہ ہمیشہ کے لیے سائیں کی نذر کر کے مسکراتا ہوا واپس فیکٹری آ گیا



۔۔۔کائنات بشیر۔۔
********
Advertisements

12 comments on “دال کا پیالہ

  1. السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    کائینات آپسے ایک شکوہ ہے کہ آپکے بلاگ پر تبصرہ کرنے کا حق صرف ورڈپریس والوں کو ہے۔۔۔۔ میرا ورڈپریس میں کوئی اکاونٹ نہیں تھا لہٰزا چند ایک مرتبہ آپکے بلاگ کا چکر لگا لیکن بغیر تبصرہ کئے واپس چلا گیا۔ اس طرح تو آپکے بلاگ کے وزٹرز بڑھنے کی بجائے گھٹتے چلے جائیں گے۔ آج یہ تبصرہ میرے ورڈپریس کے اکاونٹ کا باعث بنا۔
    خیر بڑے مزے دار تحریر تھی آجکی۔۔۔ اتفاقیہ چکر لگا یہاں کا تو اِک نئی تحریر دیکھنے کو ملی اور ابھی دیکھا کہ شائع بھی آج ہی ہوئی ہے۔ 🙂 ویسے پڑھتے ہی جو بات زہن میں آئی وہ یہ کہ آپکو ایسی تحریر لکھنے کا خیال کیسے آیا۔۔۔۔

    Like

    • اسلام علیکم عادل بھائی، میرے بلاگ پر آپ کو خوش آمدید،
      بہت شکریہ توجہ فرمانے اور تحریر کی پسندیدگی کے لیے۔
      میں کوشش کروں گی کہ میرے بلاگ کی ٹریفک بڑھے۔ آپکا سوال کہ مجھے کیسے اس تھیم پر لکھنے کا خیال آیا تو اس کا جواب آپ کو میری
      ایک دوسری تحریر ۔۔۔۔۔ منظر بدل گیا ہے ۔۔۔۔۔ میں مل جائے گا۔ وہ تحریر میں نے اس سے بھی پہلے لکھی تھی مگر اب یہاں اگلے دنوں میں پوسٹ کروں گی۔
      امید ہے آئندہ بھی میرے بلاگ پر آتے رہیں گے اور اپنی آرا اور مشورے سے نوازتے رہیں گے۔

      Like

      • آئیندہ تو تبھی آتا رہوں گا جب یہ ورڈپریس کے اکاونٹ سے لاگ ان والی شرط ختم ہوگی 😛
        خیر میں جلد ہی وہ تحریر بھی پڑھ کر آپ کو آگاہ کروں گا۔

        Like

      • مجھے منظر بدل گیا کے نام سے کوئی تحریر نہیں ملی آپکے بلاگ پر 😦
        آپکے بلاگ کو اپنے بلاگ کے بلاگ رول میں بھی شامل کر لیا ہے۔

        Like

  2. بہت اچھی تحریرہے لکھتےرہاکریں۔ واقعی میں ہم لوگوں نےان کواچـھوت بنایاتھادراصل ہمارارہن سہن ہندوؤں کےساتھ اسی لئےلیکن اب اس میں کافی پختگی آچکی ہےاورہاں اب توبہت سےعیسائي بہت سی اچھی پوسٹوں پرمثلاماسٹر،نرسیں،ڈاکٹروغیرہ کےشعبےمیں کام کررہےہیں۔

    Like

  3. جاوید بھائی میرے بلاگ پر آنے اور توجہ فرمانے کے لیے شکریہ۔۔۔۔۔
    مضمون کی پسندیدگی کے لیے بھی بہت شکریہ،

    Like

  4. عادل بھائی میری وہ تحریر ۔۔۔ منظر بدل گیا ہے۔۔۔۔۔ ابھی یہاں موجود نہیں ہے وہ ایک دو روز میں اس بلاگ پر آ جائے گی۔انشاءاللہ، وزٹ کرتے رہیئے،
    بلاگ رول میں شامل کرنے کے لیے شکریہ،
    اپنے بلاگ کا لنک بھی دیجیے پلیز۔۔۔۔ ابھی تک مجھے ملا نہیں۔

    Like

      • ارے واہ آپکا بلاگ سپاٹ پر ہے۔ میں نے بھی پہلے بلاگ وہیں بنایا تھا پر وہاں مجھے اردو کمیونٹی اور رسپانس نظر نہیں آتا تھا تو اس لیے پھر یہاں ۔۔۔۔۔
        آپکا بلاگ تو بہت خوبصورت ہے۔ پہلے تفصیل سے دیکھوں گی پھر کمنٹ کروں گی۔

        Like

      • 🙂 جی دیکھا تھا آپکا بلاگسپاٹ والا بھی۔۔۔۔۔ نجانے آپکو کیوں بلاگسپاٹ میں مشکلات آئیں۔۔۔۔
        بہت شکریہ، آپکے تبصرے کا انتظار رہے گا۔

        Like

  5. دال کا پیالہ

    اچھی تحریر شیر کی ہے آپ نے اگر یہ کہانی نہیں حقیقت ہے تو بیچارے غریب کی جان بچ گئی. فساد نہ بھی ہوا ہوتا تو پٹائی تو ہو ہی جاتی اس بچارے کی.

    یہ چھوت چھات والی بات تو ہمارے ہاں کی پیداوار یے اور آج بھی اس کے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں کسی کی جان پر بنتی یے تو کسی کا ریپ ہوتا ہے پر کوئی کیس نہیں بنتا اور بنتا بھی ہے تو اس کی شنوائی نہیں ہوتی اور لے دے کر بات ختم ہوجاتی یے.
    .
    حیرت ہے یہ پروڈکٹ آپ لوگوں کے ہاں کیسے پہنچ گئی.

    نازنین خان

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s