جیکی چن، عالمی شہرت یافتہ اداکار

 

جیکی چن

مارشل آرٹ فلموں کے پھرتیلے اداکار


جیکی چن ایک عالمی شہرت یافتہ مشہور
اداکار،
جو 7 اپریل 1954 میں ہانگ کانگ میں پیدا ہوا۔
ان کے نام سے کون واقف نہیں؟ جو لوگ ایکشن فلمیں دیکھتے ہیں اور ایکشن فلمیں پسند کرتے ہیں۔ ان کے لیے جیکی چن کا نام اجنبی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ بروس لی کے بعد جیکی چن غالبا وہ پہلی چینی شخصیت ہیں، جنہوں نے جوڈو کراٹے اور مارشل آرٹس کے مناظر سے بھر پور فلموں کی وجہ سے دنیا بھر میں نہ صرف یہ کہ غیر معمولی شہرت حاصل کی، بلکہ اپنے شعبے میں ایک نمایاں مقام بھی حاصل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہانگ کانگ سے اپنی اداکارانہ زندگی کا آغاز کرنے والے جیکی چن کے مداحوں کی تعداد کسی طرح بھی مقبول ترین ہالی وڈ اسٹار سلو یسڑاسٹالون، آرنلڈ شیوارز نیگر اور بروس ولس سے کم نہیں ہے۔
جیکی چن کی فنی زندگی کا آغاز کئی عشروں سے زیادہ مدت پر محیط ہے۔ اس دوران جیکی نے بہت ساری فلموں میں کام کیا۔ جن میں سے بیشتر فلمیں ہانگ کانگ میں بنیں اور چند امریکہ میں۔ امریکہ میں بنی فلم : شنگھائی نون : میں انھوں نے کاؤ بوائے کا رول ادا کیا۔
کسی بھی اداکار کے مداحوں کے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہوتی ہے جب ان کا پسندیدہ اداکار خود ان سے اپنی باتیں اپنی یادیں شیئر کرے۔ جیکی چن اپنے اس کاؤ بوائے کے کردار کے بارے میں بتاتے ہیں کہ،
”مجھے اپنے بچپن کی ایک دھندلی سی تصویر یاد ہے۔ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا، میں چور، پولیس کا کھیل کھیلتا تھا اور ہمیشیہ ایک کاؤ بوائے جیسے کپڑے پہنتا تھا۔ ایک کاؤ بوائے کی زندگی گزارنا ہمیشہ سے میرا خواب تھا۔ سو ایسی صورت میں بھلا کیسے اس کردار کی ادائیگی سے میں انکار کر سکتا تھا۔
حالانکہ مجھے شنگھائی نون میں گھڑ سواری کرتے ہوئے مشکل پیش آئی تھی۔ کیونکہ میں گھڑ سواری کا عادی نہیں تھا۔ عادی ہو بھی کیسے سکتا تھا جبکہ میں نے اپنی ساری زندگی ہانگ کانگ میں گزاری ہے اور ہانگ کانگ ایک شہر ہے۔ ایسے ماحول میں، میں گھوڑا لے کر سڑکوں پر سیر کو نکلنے سے تو رہا۔ گھوڑوں سے تو میں ویسے بھی ہمیشہ خوفزدہ رہا ہوں۔ میں انھیں اپنے گھر کے پچھواڑے میں پال تو سکتا تھا مگر ان پر سواری ۔۔۔ ؟
اف، یہ کام میرے بس کا نہیں تھا۔ وہ مجھے پھینک دیتے تو کیا ہوتا ؟
حالانکہ فلموں کے کئی خطرناک مناظر میں نے خود ہی عکس بند کروائے ہیں۔ مگر ان سین کو فلمبند کروانے کی بات ہی اور ہے۔ کیونکہ جب میں کوئی خطرناک مناظر عکس بند کروا رہا ہوتا ہوں، تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ کتنے قدم پر جا کر کیا کرنا ہے اور وہ سامان یا اشیاء جو میں نے اس منظر میں استعمال کرنی ہیں یا جن پر سے میں نے چھلانگ لگانی ہے، وہ مجھ سے کتنے فاصلے پر رکھی ہیں۔ مگر گھوڑے کا معاملہ مختلف ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ایک جاندار ہے۔ وہ کیا سوچ رہا ہے یا کیا کرنے والا ہے، اس کا علم آپ کو پہلے سے نہیں پتہ ہوتا۔
شنگھائی نون کی شوٹنگ کے دوران جب مجھے گھوڑے پر بیٹھنا ہوتا تھا تو بظاہر وہ قابو میں نظر آتا تھا مگر جب شوٹنگ کے دوران میں اسے ٹھہرنے کو کہتا تو وہ دوڑنے لگتا تھا اور جب میں کہتا تھا کہ بھاگو تو وہ گھاس چرنے لگتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ ہمیشہ گھر جانے کی فکر میں رہتا ہے۔ درحقیقت وہ میرے قابو میں ہی نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب گھوڑے کا اصل مالک اس پر سوار ہوتا تھا تو گھوڑا وہی کرتا تھا جو مالک چاہتا تھا۔


لیکن ہار ماننے والا میں بھی نہیں تھا، لہذا میں نے فلم والوں سے کہہ دیا کہ مجھے گھوڑے کی سواری سکھائی جائے، انہیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ انہوں نے میرے لیے ایک خصوصی تربیتی کورس کا اہتمام کیا اور دس روز کی تربیت کے بعد مجھے گھوڑے کو قابو کرنا آ گیا۔ ظاہر ہے کہ مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران میری ناک پر شدید چوٹ لگی تھی۔ مجھے اس چوٹ سے شدید اذیت پہنچی تھی۔ اصل میں ہوا یہ تھا کہ شوٹنگ کے دوران کسی نے میری ناک پر زور سے لکڑی کی ایک چھڑی مار دی تھی، ویسے تو یہ اتفاقا ہی ہوا مگر میرے لیے یہ بہت اذیت ناک بات تھی۔ میں ان دنوں مسکراتا تھا تو بھی مجھے درد ہوتا تھا۔ اور میں ہر وقت چھینکیں ہی مارتا رہتا تھا۔
میں نے ہانگ کانگ کی فلموں میں بھی کام کیا اور امریکہ کی بھی فلموں میں۔ فرق یہ رہا کہ ہانگ کانگ کی فلموں میں بہت ٹائم برباد ہوتا تھا۔ مگر امریکہ میں ایسا کم ہوتا ہے۔ ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ وہاں امریکہ شوٹنگ کے دوران پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کام ہوتا ہے۔ امریکی کوئی منظر عکس بند کرنے سے پہلے ایک بار تمام امکانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس کے بعد دوسری بار اس کا جائزہ لے کر اپنا اطمینان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں خطرناک مناظر کی شوٹنگ کے دوران ہمیں اپنی جان پر نہیں کھیلنا پڑتا۔
ویسے تو ہانگ کانگ میں بھی فلموں کی شوٹنگ کے دوران میں نے کبھی اپنی جان کی پرواہ نہیں کی۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ اب تک مجھے بے شمار چوٹیں لگ چکی ہیں۔ یہ چوٹیں میرے بدن پر سر سے لے کر پاؤں تک موجود ہیں۔
1986کی بات ہے۔ فلم کا نام اب میرے ذہن میں نہیں رہا۔ جب میں ایک خطرناک منظر کی شوٹنگ کے دوران بہت اونچے درخت سے گر گیا تھا۔ اس حادثے سے میری کھوپڑی چٹخ گئی تھی اور میں تقریبا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ وہ ایک بہت ہولناک واقعہ تھا۔

شروع میں ، میں نے امریکی فلموں میں ذرا کم کام کیا، کیونکہ امریکہ والے ایشیاء جا کر فلمیں نہیں بناتے۔ ایشیاء میں ایکشن فلمیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد کامیڈی اور آخر میں سنجیدہ انداز کی فلموں کو پسندیدگی حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ امریکہ میں سنجیدہ فلمیں سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ اس میں بھی معیاری ہونے کی شرط ہے۔ فلم کی لائٹنگ اور ساونڈ ایفیکٹس شاندار ہوں تو بات بنتی ہے۔ صرف ۔۔۔۔ٹائٹینک ۔۔۔ ایک ایسی فلم تھی، جو دنیا کے تمام خطوں میں پسند کی گئی۔
میں ایک زمانے میں امریکی فلموں کی چاہ میں امریکہ آیا تھا۔ مگر امریکہ میں مجھے کوئی خاص لفٹ نہیں ملی تھی۔ سو میرا اعتماد اور خواب ٹوٹ کر رہ گیا تھا۔ لہذا میں دوبارہ اپنی فلموں کی طرف لوٹ گیا تھا۔ اس تجربے نے مجھے بہت کچھ سکھایا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ اب دوبارہ کبھی ہالی وڈ کا رخ نہیں کروں گا۔ مگر میں نے اپنی اس سوچ کے خلاف 1998 میں امریکہ آ کر فلم : رش آور : میں کام کیا۔ ایک دلچسپ بات بتاؤں کہ اس فلم کے لیے جب میں برسوں بعد امریکہ آیا تو انگریزی زبان پر اپنی گرفت سے بہت زیادہ خوش نہیں تھا۔ اس فلم میں میرے ساتھ مزاحیہ اداکار کرس ٹکر کام کر رہے تھے۔ میں جب ان سے پہلی بار ملا تو میری سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اور وہ تھے کہ بولے چلے جا رہے تھے۔ ادھر ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ان کی بات کے جواب میں، میں کیا کہہ رہا ہوں۔ بہر حال بعد میں ، میں نے اپنی انگریزی بہتر کی۔ اور یہ میرے لیے دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔ میرا خیال ہے کہ انگلش بڑی مشکل زبان ہے۔ اگر کوئی بہت تیزی سے انگلش میں بات کرے تو میں اب بھی سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔

مشکل تو مجھے ہانگ کانگ میں اپنی وہ فلمیں بھی لگتی تھیں، جس کی کہانی میں خود لکھتا، ان میں اداکاری کرتا اور ان کی ہدایات دیتا تھا۔ کسی فلم میں اتنے بہت سے کام کرنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ مگر اس کے باوجود ہانگ کانگ میں اکثر مجھے اکیلے ہی بہت سے کام کرنے پڑتے تھے۔ امریکہ میں کام کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ کم از کم یہاں آپ کی فلموں کی ہدایات تو دوسرے لوگ دے رہے ہوتے ہیں۔ میں نے امریکی فلموں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ شوٹنگ کے دوران ایک کرسی پر بیٹھ کر میں خاموشی سے سب کو دیکھتا رہتا تھا۔ اس سے بھی مجھے بہت سیکھنے کا موقع ملا تھا۔ “
جیکی چن نے آٹھ سال کی عمر سے ایکٹنگ شروع کی۔ وہ بچپن سے ہی بہت ایکٹو تھا۔ اس کا تب سے شروع کیا فنی سفر ابھی بھی جاری ہے۔ عمر کے ماہ و سال بھی اس پر اپنا کچھ خاص اثر نہیں چھوڑ سکے۔ اس نے ہانگ کانگ، یورپ ، جاپان اور امریکہ کی بہت ساری فلموں میں کام کیا۔ دنیا بھر میں اس کے مداحوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ جو اس کی ہر نئی ریلیز فلم کا بے چینی سے انتظار کرتی ہے۔ بے پناہ شہرت اور عزت اس کا مقدر بنی ہے۔ جو صرف قسمت کے دھنی لوگوں کو ہی ملتی ہے۔۔
Advertisements

2 comments on “جیکی چن، عالمی شہرت یافتہ اداکار

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s