میرے رہبر میرے رہنما

میرے رہبر میرے رہنما 

اللہ کی مہربانی تھی کہ احسان، میں اس گھر میں رونق بن کر چلی آئی جہاں واقعی میری ضرورت تھی۔ ابن آدم پہلے ہی موجود تھا۔ سو حوا کی اس بیٹی کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ کسی نے نہیں کہا کہ اور بیٹا ہوتا تو بھائیوں کی جوڑی ہو جاتی۔ بلکہ کہا گیا کہ بیٹا تو پہلے سے تھا چلواچھا ہوا اب بیٹی بھی آ گئی اور فیملی مکمل ہو گئی۔ 
میں نے جیسے ہی ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو امی جان کے علاوہ ابو کے بھی بہت قریب پایا۔ اس عمر میں تو اندازہ نہیں تھا کہ ان کی محبت میری زندگی میں ایک مشعل کی طرح جلے گی اور میری رہنمائی کرے گی۔ بچپن سے ہی مجھے اپنے اباجی کے قریب ہونے کا بہت موقع ملا۔
 

والد صاحب کی اچھی نیچر، لائف سٹائل اور عادتیں میرے اوپر بچپن سے ہی اثر انداز ہونے لگی تھیں۔

ماشاءاللہ، وہ ایک بہت ایکٹو انسان تھے۔
اور ان کی بہت سوشل ایکٹیویٹیز تھیں۔ میں نے ان کو کبھی فرصت سے نہیں دیکھا۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے نظر آتے۔ ریلوے میں افسر تھے۔ جاب پر ان کے کولیگز، پانچ وقت نماز کے پابند انسان، پھر ایک رفاعی انجمن سے وابستھ تھے تو وہاں کے ساتھی، پھر جس طرح میں نے ان کو نماز کی پابندی کرتے دیکھا اسی طرح انہیں باقاعدہ روزانہ صبح کی سیر پر بھی جاتے دیکھا، چاہے مینہ برسے، آندھی آئے، اس عادت میں بھی ان کی پختگی دیکھی۔
بھائی اور میں نے در پردہ ان کے دوستوں کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ہم آپس میں بات کرتے تو کہتے۔ ان کے نماز کا گروپ، ان کے سیر کا گروپ، ان کی انجمن کا گروپ، ان کے آفس کا گروپ۔۔۔ ان کے دوستوں کا گروپ،

اس کے علاوہ وہ ایک فیملی مین بھی تھے۔ ہمیں کبھی نہیں لگا کہ وہ اپنی لائف کے باقی حصوں میں زیادہ انوالو ہو گئے ہوں اور ہمیں نظر انداز کر گئے ہوں۔ وہ ہمارے لیے ہمیشہ اس جگہ اور موقع پر موجود ہوتے تھے جہاں ہمیں ان کی ضرورت ہوتی تھی۔ ہماری ایجوکیشن پر بھی ان کی خاص نظر ہوتی تھی۔ اپنے اصولوں کے ساتھ وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ اور ان کے اصول ہمیں بھی اصول ہی لگا کرتے تھے ان کی انا نہیں لگتے تھے۔
آفس میں وہ اپنی جاب کی نوعیت سے ضرور بارعب ہوں گے۔ مگر گھر کے اندر انھیں سب رشتوں کو خوب نبھانا آتا تھا۔ میں نے ان کے اندر مردوں والی خواہ مخواہ کی انا یا ضد بازی کبھی نہیں دیکھی۔ اور گفتگو کرنے بات چیت میں بھی ان کی زبان بڑی شستہ تھی۔
خاندان میں بھی ان کا ایک بڑا نام تھا۔
جہاں کہیں مسئلہ ہوتا یا صلح صفائی کا معاملہ ہوتا بلکہ کہا جائے کہ اگر کوئی مسئلہ اڑ جاتا، جس کا حل ناممکن نظر آتا تو سب والد صاحب کا نام لے کر کہتے کہ انھیں بلاؤ کہ وہی آ کر یہ مسئلہ حل کریں گے اور پیغام آنے شروع ہو جاتے۔ اب یہ ذرا ذاتی معاملات زندگی ہیں لیکن واقعی انھوں نے اپنی عقل و فراست سے ایسے ایسے مسئلے سلجھائے کہ شائد وہی یہ کر سکتے تھے۔


فطرت کے بہت قریب ان کا مزاج تھا۔
مجھے بچپن کی بات یاد ہے وہ صبح کی نماز کے بعد سیر کے لیے چلے جاتے۔ واپس آتے تو کبھی کبھی ان کے ہاتھ میں ایک مسواک بھی ہوتی۔ اور پھر وہ مجھے ساتھ لے کر باہر پارک کا چکر لگوانے لے جاتے۔ وہ ماشأاللہ، ایک قد آوراورسمارٹ شخصیت تھے۔ میں نے کبھی ان میں موٹاپے کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں دیکھی۔ وہ تیز تیز چلتے۔ یا تو مسواک کیے جاتے یا کوئی شعر پڑھتے جاتے۔ اور میں ان کا ساتھ دینے کو بھاگ رہی ہوتی۔ جس پر وہ کبھی کبھی نوٹ کر کے رک جاتے اور پوچھتے ” کیا میں زیادہ تیز چل رہا تھا ؟ “ اور میں پھولی ہوئی سانس کے ساتھ کہتی ” نہیں تو “ جس پر وہ مسکرا دیتے۔


بڑے باادب، باذوق اور ادبی قسم کے انسان تھے۔
اچھی شاعری پڑھنا ان کا شوق تھا۔ اقبال ان کے پسندیدہ شاعرتھے جن کا بہت سا کلام اور اشعار انھیں زبانی ازبر تھے۔
وہ اکثر موقع و محل کی مناسبت سے شعر پڑھتے اور کشیدہ ماحول کو بھی لائٹ بنا دیتے۔ پھر بلھے شاہ کا کلام بھی انھیں بہت بھاتا تھا اور ہیئر وارث شاہ بھی۔ اور قائد اعظم ان کی پسندیدہ شخصیت تھے۔


انھیں فارسی سے بھی بہت لگاؤ تھا۔ اور شیخ سعدی سے بھی متاثر، خود بھی کبھی کبھی شعر کہہ لیتے تھے یا اپنی باتوں کو شعروں میں ڈھال لیتے۔ اس خوبی کا فائدہ ان کے انجمن کے ساتھی بہت اٹھاتے اور ہر تقریب کا احوال ان سے اشعار میں لکھوا کر سنتے اور داد دیتے۔


امی جان بتاتی تھیں کہ ایک بار ایک واشنگ سوپ آیا تھا صابن سات سو سات، اور ایک شعر بنا کر اس سوپ کی ایڈورٹائز کی گئی تھی جو ٹی وی پر آتی تھی۔
ہم تو جانیں سیدھی بات
صابن ہوتوسات سو سات

اگر ایک کمرشل یا فلم ہٹ ہو جائے تو ویسی ہی دسیوں اور بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ تو یہی حال اس سوپ کے ساتھ ہوا۔ اور بھی کمپنیاں سوپ بنانا شروع ہو گئیں۔ اور ان میں سے ایک کمپنی نے کاپی کرتے ہوئے کچھ یوں شعر لکھا
ہم تو جانیں سیدھی بات
صابن ہو تو سات سو ایک

کہتے ہیں والد صاحب نے ان کا شعر درست کروایا تھا،
ہم تو جانیں بات ہی ایک
صابن ہو تو سات سو ایک


ابا جی کو چونکہ فارسی بہت پسند تھی۔
انھیں جانے کیا سوجھی کہ نویں کلاس میں انھوں نے مجھے یہ سبجیکٹ رکھوا دیا۔ ساری کلاس اس سبجیکٹ کو آٹھویں سے پڑھ رہی تھی اور میں بعد میں انھیں جوائن کرنے لگی تھی۔ والد صاحب عربی سبجیکٹ پڑھ چکے تھے اور بھائی سائنس سبجیکٹ، تو میں کچھ گبھرائی تھی کہ اب میرا کیا بنے گا ؟ میں تو کسی سے مدد بھی نہیں لے سکوں گی۔ تب انھوں نے مجھے کہا تھا، ” گبھراؤ مت، میں ہوں نا۔ “ اور انھوں نے اپنا کہا پورا کر کے بھی دکھایا۔


وہ پہلے خود میری پرشئن بک پڑھتے تھے، پھر وہ سبق مجھے سمجھاتے تھے۔ اور ان کی اس مدد کا یہ نتیجہ نکلا کہ نویں کے ایگزامز میں فارسی میں کلاس میں میرے سب سے زیادہ مارکس آئے تھے۔ اور مجھے یاد ہے کہ میری کلاس فیلوز میرے پاس آ کر مجھ سے ریکویسٹ کر رہی تھیں کہ میں انھیں ریسس ٹائم میں پرشیئن پڑھا دیا کروں، تو دل میں مجھے بہت ہنسی آئی تھی۔ انھیں کیا پتہ کہ یھ سارا کمال تو میرے رہنما کا تھا۔


پڑھائی میں وہ مجھے کچھ خاص نکتے بھی نوازا کرتے تھے۔
ایک بار میرا انگلش کا ٹیسٹ تھا۔ تو مجھے پہلی بار والد صاحب نے ۔۔۔ رومن اردو ۔۔۔ سے متعارف کروایا تھا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ اگر مجھے کسی لفظ کی انگلش نہ آئے تو میں وہاں پر رومن اردو میں انگلش ورڈ لکھ دوں ۔۔۔ اور ایسا ہی ہوا تھا کہ مجھے ۔۔۔ مسجد ۔۔۔ لفظ کی انگلش ذہن میں نہیں آ رہی تھی اور میں نے وہاں رومن اردو میں انگلش ورڈ لکھ دیا تھا۔ اور بعد میں انگلش ٹیچر نے مجھے بلا کر یہ نکتہ استعمال کرنے پر شاباش دی تھی کہ میں نے اس لفظ کی جگہ خالی نہیں چھوڑی یا وہاں غلط اسپیلنگ نہیں لکھے۔


والد صاحب کی باتیں میرے لیے اقوال زریں کی طرح تھیں۔
وہ اس بات کے بالکل خلاف تھے کہ ایک سٹوڈنٹ پورا سال لاپرواہی سے رہے اور امتحان کے دنوں میں دن رات پڑھائی میں جٹا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سارا سال پڑھائی میں محنت کرو اور ایگزمز کے دنوں میں تو بس اپنی کی اس محنت کو ایک نظر دیکھ لو تا کہ وہ ریمائینڈ ہو جائے۔


میرے گرینڈ فادرایک بہت جری اور بہادر شخصیت تھے۔ ایک بار ایک ڈاکو سے انھوں نے دوبدو مقابلہ کرنے کے بعد اسے زیر کر دیا تھا تو ان کی بہت دھاک بیٹھ گئی تھی۔ تو یہی انکی بہادری اور جرآت میرے ابو دو چچا اور ایک پھپھو میں بھی تھی۔


امی جان بتاتی تھیں کہ
کئی سال پہلے ایک بار ابواور وہ بہاولپور کے ایک ریلوے اسٹیشن پر تھے۔ ٹرین آنے میں ابھی وقت تھا۔ پلیٹ فارم پر کافی لوگ آ جا رہے تھے، ابو کبھی امی جی سے باتیں کرنے لگتے اور کبھی اٹھ کر تھوڑی واک کرنے لگتے۔ پھر وہ اچانک آ کر امی جی کے پاس بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ مجھے کچھ شک سا ہو رہا ہے۔ یہاں دو عورتیں برقعے میں ملبوس گھبرائی ہوئی سی کبھی ادھر کبھی ادھر آ۔۔۔ جا رہی ہیں، اورکچھ خطرناک سے ٓادمی ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔

امی جی کہتی تھیں کہ اس دوران وہ عورتیں پھر ان کے آگے سے ادھر ادھر دیکھتی ہوئی گزریں اور چند لمحوں کے بعد ہی دو تین آدمی بھی ہمارے سامنے سے تیزی سے گزر کے گئے۔ بڑے خطرناک سے ان کے حلیے، سر پر بڑی بڑی پگڑیاں اور یھ بڑی بڑی مونچھیں، جنہوں نے کندھوں پر رائفلیں بھی لگا رکھی تھیں۔ امی جی نے بتایا کھ ابھی ھم دیکھ ہی رہے تھے کہ کچھ لمحوں بعد وہی عورتیں پھر ہمارے ٓاگے سے گزرنے لگیں تو اچانک جلدی سے وہ ابو کی طرف لپکیں اور بولیں ” بھائی صاحب، ہماری مدد کرو، ہمارے پیچھے کچھ آدمی لگے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہاں سے نکلنا ہے ؟ “ ابو نے صورتحال تو پہلے ہی جانچ لی تھی۔ انھوں نے جلدی سے ادھر ادھر دیکھا،


اسوقت ریلوے اسٹیشن کی بلڈنگ کے ساتھ ہی لوہے کی ریلنگ شروع ہو جاتی تھی جو کہ کافی تنگ تنگ ہوا کرتی تھی جسمیں سے گزرنا ناممکن سی بات تھی۔ اچانک ادھر ادھر دیکھنے پر ابو کو لوہے کی ریلنگ کا وہ حصہ نظر آیا جو اسٹیشن کی بلڈنگ کے ساتھ سے شروع ہو رہا تھا، وہاں کچھ خلا سا نظر آیا۔ جس میں سے کوئی بچہ تو گزر جائے مگر ایک بڑے فرد کا گزرنا تقریبا ناممکن،

ابو نے ادھر اشارہ کرتے ہوئے کہا ”بہن، یہی ایک رستہ ہے اگر کسی طرح گزر جاو تو؟ اس کے ساتھ ہی پیچھے شہر ہے۔ “
امی بتاتی تھیں کہ وہ عورتیں تو جیسے اک ہلکے سے اشارے اور مدد کی منتظر تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ اتنی تیزی سے اس جگہ سے اپنا آپ سمیٹ کر گزر گئیں اور پیچھے شہر میں لوگوں کے ہجوم میں روپوش ہو گئیں۔ اور سب کچھ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے آنا فانا ہو گیا۔ بعد میں ان آدمیوں کا یہ حال تھا کہ بوکھلائے ہوئے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر ان عورتوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ اور ابو کے پاس آ کر بھی ان عورتوں بارے پوچھا تھا، مگر ابو انجان بن کرایک طرف کھڑے تھے اور انھوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔


اور ایک بار اپنے علاقے میں ہی ابو نے ایک ایسے آدمی کو قابو کیا تھا جو شراب پی کر غل غپاڑہ مچا رہا تھا اور لوگوں کو نقصان پہنچا رہا تھا۔ اور لوگ گروپ کی شکل میں اس پر قابو پانے کی کوشش میں بے حال ہوئے جا رہے تھے۔ اور ابو نے اکیلے اسے زیر کیا تھا۔
انھیں پتہ تھا کہ کہاں طاقت استعمال کرنی ہے اور کہاں عقل۔


وہ ایک بارعب انسان تھے
مگر ان لوگوں کی طرح نہیں تھے جنہیں اپنا آپ منوانے کے لیے دوسروں پر نصیحتوں، روک ٹوک ، تنقید اور لفظوں کا بوجھ ڈالنا پڑتا ہے۔ وہ ایسے انسان تھے جو سازگار ماحول بنا کر پھر اس میں اپنا ایجنڈا لاتے ہیں۔ وہ زرخیز زمین تیار کر کے پھر اس میں پھول کھلانے والے انسان تھے۔ انھوں نے کبھی بے جا روک ٹوک نہیں کی تھی اور اگر کسی بات سے منع کیا تھا تو اس سے ہم نے کبھی انحراف نہیں کیا تھا۔ کیونکہ ہمیں پتہ تھا کہ یہ ہماری بہتری کے لیے ہے۔


وہ ہمارے لیے ایک اکیڈمی کی طرح تھے۔
انھوں نے ہمیں زندگی کی بہت سی ترجیحات دیں۔ شکر کرنا، صبر کرنا، قناعت پسند ہونا، زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو انجوائے کرنا۔ وقت کا صحیح استعمال کرنا، دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلنا، اور یہ باتیں انہوں نے بڑے بڑے ڈائلاگ کی صورت ہم تک نہیں پہنچائیں، بلکہ یہ ہمیں خود ان کی ذات میں نظر آتی تھیں۔ جو پھرخود بخود آہستہ آہستہ ہمارے اندر بھی اترتی چلی گئیں۔

آج میں ان ویلیوز کو خود میں محسوس کرتی ہوں،
جو مجھے ان کی طرف سے ملی ہیں۔ کہ جو اور جتنا پاس ہو اسی میں طمانیت محسوس کرنا انھوں نے ہمیں سکھلا دیا۔ لائف سٹائل کی دوڑ، لالچ، اور مقابلہ بازی بارے ۔۔۔ غیرمحسوس طریقے سے باور کرا دیا کہ یہ کس طرح بندے کے صبر اور شکر کو ختم کر دیتی ہیں اور سکون جیسی نعمت سے دور کرتی ہیں۔
روپے پیسے کو انھوں نے ہماری زندگی کی ضرورت بنایا پر طمع لالچ نہیں۔ ایک بار انھیں اپنی جاب کی طرف سے گھر کی فسیلٹی ملی تھی مگر انھوں نے یہ کہہ کروہاں منع کر دیا تھا کہ میرے پاس اپنا ذاتی گھر ہے۔ جبکہ لوگ اپنے ذاتی گھر کے ہوتے ہوئے بھی اس سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے۔ امی جان کا دل چاہ رہا تھا کہ جب گھر مل رہا ہے تو جانا چاہیے۔ تو والد صاحب نے بڑے اچھے انداز سے سمجھایا تھا کہ اول تو ہمیں اس گھر کی ضرورت ہی نہیں دوسرا میں کسی اور جائز حقدار کا حق ختم نہیں کرنا چاہتا۔ تو ان کے اس طرح کے فیصلے اور باتیں نہ صرف انھیں ایک اعلی مقام پر پہنچا رہی تھیں بلکہ ہماری تربیت میں بھی شامل ہو رہی تھیں۔

انہوں نے ہمیں مقابلے کی فضا دی،
مگر زندگی کے اورمراحل کے لیے۔ زندگی کی سچائیوں اور حقیقتوں کا سامنا کرنے کے لیے، شارٹ کٹ کی بجائے پراپر طریقے سے گول تک پہنچنے کے لیے، اپنے نفس پر قابو پانے کے لیے، اپنی خواہشات کو محدود رکھنے کے لیے،

میں اس معزز، اعلی و ارفع ہستی کے بارے میں جتنا بھی لکھوں کم ہے۔ وہ تو ایک ۔۔۔ پارس ۔۔۔ ہستی تھے۔ جن کی بدولت بہت سے لوگ رشتہ دار بھی مستفید ہوئے۔ انہوں نے کسی کو تعلیم دلوائی تو کسی کو جاب اور کسی کی مالی مدد کی۔ وہ خود حرف حرف چراغ تھے۔ اوردوسروں کے لیے چراغ سے چراغ جلانے والے انسان تھے۔ اور مجھے اس بات پر بہت فخر ہے خوشی ہے کہ میں اتنے پیارے اور خوبصورت خیالات و عادات رکھنے والے انسان کی بیٹی ہوں۔

کائنات بشیر
**********

Advertisements

4 comments on “میرے رہبر میرے رہنما

  1. کائنات بیٹا۔۔۔ آپ کے ابو واقعی بہت عظیم انسان ہیں۔۔۔ اور آپکی تحاریر میں جو زہن کی پختگی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ یقیناانکی تربیت کا نتیجہ ہے۔۔۔ میری دعا ہے کہ اللہ آپکے والد صاحب کو جنت میں جگہ عطا فرمائے اور قیامت کے دن ان کی مغفرت فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

    Like

  2. توجہ کے لیے بہت شکریہ عمران بھائی،
    بے شک میری زندگی میں ابو کا بہت بڑا رول رہا ہے۔
    دعاوں کے لیے بہت ممنون ہوں۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s