حق ہمسائیگی



حق ہمسائیگی

بہت سال پہلے کی بات ہے کہ،
پاکستان میں ہمارے ایک سائیڈ کے جو پڑوسی تھے، جن کے ساتھ ہماری دیوار ملی ہوئی تھی ۔ بد قسمتی سے ان کے گھر سکون جیسی نعمت ذرا کم تھی ۔پہلے میاں بیوی کی لڑائی ہوتی تھی ۔۔ تو ۔۔ پورا محلہ گھر بیٹھے ان کی لائیو لڑائی سنتا تھا ۔۔  پھر ان کے بچے بڑے ہوئے تو میاں بیوی کی لڑائی ذرا کم ہوئی اور ان کے بچوں میں منتقل ہو گئی ،دونوں لڑکے جوان جہان جب لڑتے تو لگتا سانڈ لڑ رہے ہیں۔ کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹتا ۔۔  تو اس لئے ان کی لڑائی میں بھی بڑی شدت ہوتی تھی ۔ کہ مر جاؤ یا مکا دو والی بات ہوتی اور ساتھ شور شرابا بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ۔۔ اس لئے جیسے ہی ان کی لڑائی شروع ہوتی ، پورا محلہ ان کے گھر امڈ آتا
لائیو شو، دیکھنے اور بیچ بچاؤ کرانے۔
اور ہماری تو ان سے دیوار ملی ہوئی تھی۔ میری امی خود گبھرا جاتیں اور ابو سے کہتیں ” جائیو جائیو ذرا ان کو چھڈائیو “۔
اور ابو بھی حق ہمسائیگی ادا کرنے چلے جاتے ،اور ایسا ہر بار ہوتا لیکن ان کی لڑائیاں کم ہونے میں نہ آتیں۔
بلکہ ۔۔۔ ایک بار تو ایک بھائی نے مار مار کر دوسرے کو ہیہوش بھی کر دیا ۔

ایک بار اسی طرح ان کی لڑائی ہو رہی تھی کہ ابو بھی اس لڑائی میں اپنا حصہ ڈالنے چلے گئے ۔۔۔۔ یعنی ۔۔۔ انھیں چھڑانے کے لئے چلے گئے لڑائی زور و شور سے جاری تھی اورابو بھی اپنا رول ادا کر رہے تھے ۔۔۔
کہ ۔۔۔ لڑکوں کے باپ نے ابو سے کہا ۔۔ کہ” آپ ہماری لڑائی میں نہ آیا کریں ۔۔۔ یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے۔”
ابو کو ان کا اس طرح کہنا بہت برا لگا اور آکورڈ سا فیل ہوا ۔
اور گھر آ کر انھوں نے امی جان سے صاف کہہ دیا کہ ” آئندہ میں نہیں جانے والا ۔ یہ لڑیں مریں جو مرضی کریں ۔۔۔”
سو نیکسٹ ٹائم جب ان کی لڑائیاں ہوتیں تو ابو نہ جاتے۔لیکن محلے والے تو فورا آن موجود ہوتے ۔۔۔پھر محلے والوں نے ابو کی غیر موجودگی نوٹ کرنا شروع کر دی ۔ اور باتیں کرنا بھی شروع کر دیں کہدیکھیں جی ہم تو اتنے دور دور گھروں سے فورا آ موجود ہوتے ہیں ۔  اور ابو کا نام لے کر کہتے کہ ان کی تو دیوار سے دیوار ملی ہوئی ہے
، ان کو تو سب سے پہلے پہنچنا، آنا چاہیئے۔
اور پھر یہ تبصرے ہمارے گھر تک بھی پہنچنے لگے ۔ تو میری پیاری امی جان کو یہ سب سن کر بہت برا لگتا اور وہ دوبارہ پھر لڑائی ہونے پر ابو جی سےجانے کے لئے کہنے لگیں لیکن ابو نہیں مانتے تھے
کہ جب وہ گھر والے خود منع کر دیں ، تو میں کیوں جاؤں ۔
  اور امی جان ابو کو قائل کرنے میں رہتیں کہ ” کوئی بات نہیں ان کے لئے بھی سچوئیشن بہت آکورڈ ہے ۔۔ غصے میں کہہ دیا ہو گا ۔ ہمسائیوں کے بڑے حق حقوق ہوتے ہیں، آپ چلے جایا کریں ۔۔۔ لوگ ہمارے بارے بھی باتیں کرتے ہیں کہ آپ کیوں نہیں پہنچتے ۔” لیکن ابو اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور امی جان اپنی بات پر قائم رہیں ۔۔۔   سو اس مسئلے کا یہ حل نکلا ۔۔۔ کہ ۔۔ آئندہ ۔۔۔ ان کی لڑائی کے موقع پر ابو نہیں جاتے تھے ۔۔۔۔
بلکہ پھر ۔۔۔۔ میرے بھائی جان جانے لگ گئے تھے ۔۔۔۔ 

سو آپ نے دیکھا ۔۔۔۔ کہ حق ہمسائیگی کتنا ہوتا ہے ۔۔۔ کہ نا چاہتے ہوئے بھی ان کے پھڈے میں جانا ہی پڑا۔

——    …….. ——–

Advertisements

2 comments on “حق ہمسائیگی

  1. واقعی ہمسائیوں کےبہت حقوق ہیں لیکن جب کوئی بارباربھی آپ کی بات نہیں مانتاتوآپ کناراکش ہوجائےتوبہترہےکیونکہ یہ نہ ہوکہ آپ چھڑانےگئےہوں اورآپ کوبھی کوئی چوٹ لگ سکتی ہے۔

    Like

  2. آپ نے بجا فرمایا ۔۔۔ پر وہی بات ہے نا کہ ھمسائیوں کے حقوق سے نظرپوشی بھی نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے کوئی نہ کوئی فیصلہ لینا ضروری تھا۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s