فطرت اور مظاہر فطرت

 

 

فطرت اور مظاہر فطرت

دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے


پتہ نہیں کیوں تصویر دیکھ کر یہ شعر بے اختیار یاد آ گیا۔ فرق اتنا کہ یہاں آگ کا دریا ہے۔

دراصل ہم فطرت اور مظاہر فطرت کو اپنی مخصوص صورت حال، وقتی ضرورت اور موڈ کے مطابق دیکھتے ہیں۔

جیسے بارش میں محبوب یہ دعا مانگتا ہے۔” اے ابر کرم اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں “

لیکن قرض خواہ سے تنگ آیا قرض دار یوں دعا گو ہوتا ہے ” اے ابر کرم اتنا برس کہ وہ آ نہ سکیں”

فطرت کی اپنی منطق ہے، لیکن ہم اسے اپنے تابع رکھنا چاہتے ہیں اور یہ غیر منطقی ہے۔

بارش، سردی، گرمی، آندھی ، طوفان، آتش فشاں کا پھوٹنا وغیرہ تو، یہ سب فطرت کے وقوع ہیں۔ بطور مثال، جغرافیائی عمل کے تحت بادل بنتے اور بارش ہوتی ہے، لیکن اس کا نیچے زمین پر کھیلے جانے والے میچ اور سٹیڈیم میں بھیگتے افراد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بس یہی عمل یہاں رواں ہے۔

ہمارا دل بھی ایک آتش فشاں ہی تو ہے، جس کے اندر ناپسندیدہ واقعات، باتیں، جذبات حالات کی جبری کشمکش سے نبرد آزما ہونے والی قوت جیسے عوامل جمع ہوتے رہتے ہیں، اور پھر وہ لاوے کی طرح اندر ہی اندر پکتے رہتے ہیں اور موقع پاتے ہی یہ آتش فشاں پھوٹ نکلتا ہے اور پھر اسکی زد میں آس پاس کا ماحول اور کتنے ہی لوگ لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔


<<<<<<<<<<<<<

Advertisements

3 comments on “فطرت اور مظاہر فطرت

  1. دل کے متعلق آپ کا تجزیہ درست ہے۔ اس لیے ہی کہتے ہیں کہ باتیں ہمیشہ دل میں ہی نہیں رکھنی چاہییں دل کا غبار تھوڑا تھوڑا کر کے وقتاً فوقتاً نکالتے رہنا چاہیے ورنہ نا خوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s