وہ اک لمحہ

وہ اک لمحہ

کل نجی فضائی کمپنی ائیر بلیو کا طیارہ اسلام آباد کی مرگلہ پہاڑی سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوا۔ اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ قیامت آنے سے پہلے اپنی چھوٹی چھوٹی نشانیاں، جھلک ہمیں دکھلاتی رہتی ہے۔ ان میں سے ایک کل کا دن بھی تھا جو پورے پاکستان اور ہم پردیس والوں کے لیے قیامت کا دن تھا۔

مجھے وہ دن وہ آہ و زاری دوبارہ گزرتی محسوس ہوئی۔ جب اسلام آباد میں ہائی بلڈنگ گری تھی۔ لوگ ملبے میں دبے تھے اور باہر کھڑے دھاڑیں مارتے لوگ اپنے پیاروں کے لیے کچھ نہیں کرپا رہے تھے۔ اور کل بھی یہی سماں تھا یہی بے بسی کی کیفیت تھی۔ آگ سے جلتا تباہ شدہ جہاز، اور پہاڑیوں کے درمیان ایک کھائی میں دبا ملبہ، اوپر سے بارش خراب موسم، پوری تباہ کاریوں کے ساتھ یہ گھڑی آئی تھی۔ اور امید نہ ہوتے ہوئے بھی امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ شائد کوئی ۔۔۔۔ بچ گیا ہو۔ ممکن ہے کسی کی سانسیں ابھی مدد کی آس میں چل رہی ہوں۔ شائد کسی کی آنکھیں ابھی انتظار میں کھلی ہوں، کسی گھر کا چراغ، کسی مامتا کی ٹھنڈک، کسی کا سہاگ، کسی کا سائبان۔۔۔۔ شائد ۔۔۔ شائد

لیکن افسوس ایسا نہ ہوا۔ موت کا وار بہت کاری تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب ختم ہو گیا، دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گئے۔ دل کو سمجھانے کے لیے یہ تسلی دی جا سکتی ہے۔ کہ شائد ان کی زندگی اتنی ہی تھی۔ مگر موت اس طرح انھیں گھیر کر وہاں لے گئی۔ اس پر دل کو منانا بہت مشکل ہو رہا ہے۔

وہ ننھے منے غنچوں کی پھلواری جو ابھی کھل رہی تھی وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ جا چکے۔ وہ ماں کا لاڈلا جس کی ماں اسکی موت کی خبربرداشت نہ کر پائی، سن کر ہی دم توڑ گئی اور بیٹے کے ساتھ ہی چلی گئی۔ وہ سب لوگ جو اپنے کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے جا رہے تھے اور اس جہاز میں ایک مہمان کی طرح داخل ہوئے تھے۔ اور وہ میزبان جو ہمیشہ ہی اپنی ڈیوٹی نبھاتے آئے۔ اپنے بے لوث جذبے کے ساتھ گھروں سے چلے ہوں گے۔ ان کی ماؤں اور گھر والوں نے بھی انھیں دوبارہ ملنے کی آس میں اللہ حافظ کہا ہو گا۔ سب ایک روٹین کی طرح اس میں داخل ہوئے ہوں گے۔ مگر آہ ۔۔۔ کیا پتہ تھا ان کا ہر قدم ہر لمحہ انھیں موت کے قریب کر رہا تھا۔ اور جب منزل صرف دوگام رہ گئی تھی۔ جس وقت اپنوں سے ملنے کے احساسات عروج پر ہوتے ہیں۔ اسی وقت یہ قیامت برپا ہوئی۔ اب اس میں پائلٹ کی غلطی تھی یا خراب موسم آڑے آیا یا جہاز میں کوئی ٹیکنیکل فالٹ، یہ سب باتیں اب ایک طرف رہ گئی ہیں۔ باقی رہ گئی ہے تو وہ قیامت کی تباہی، اپنے پیاروں کا بچھڑنا اور ان سب لواحقین کے دلوں کا اجڑنا۔ اور وہ اندوہناک منظرجو ہمیشہ کے لیے آنکھوں کے رستے دل میں اترگیا ہے، جو اپنوں کی جدائی، ان کی المناک بےبسی کی موت کو ہمیشہ دہراتا رہے گا۔ موت کی حقیقت زندگی کے ساتھ ہمیشہ سے جڑی ہے مگر کوئی اچانک یوں چلا جائے گا۔ ہنستے کھیلتے، زندگی کے کام نپٹاتے، اس کے لیے دل اپنے آپ کو کبھی بھی تیار نہیں پاتا۔

قیامت سے بہت پہلے قیامت ہم نے دیکھی ہے

تیرا مل کے بچھڑنا قیامت سے کم  نہیں  ہے

کل یہی گھڑی تو ہم سب نے دیکھی ہے اور بہت سوں کے اپنے مل کر بچھڑ چکے ہیں۔ کیا اس دل کو صبر آ پائے گا ؟ جب بھی ان کی یاد آئے گی دل کو تڑپائے گی۔ ان کی بےبسی کی موت آٹھ آٹھ آنسو رلائے گی۔ آنکھیں انھیں زندگی کے ہر موڑ پر ڈھونڈیں گی۔ مگر وہ کبھی نظر نہیں آئیں گے۔ زندگی سے یوں اچانک چلے جانے والوں کا تو دل جلدی یقین بھی نہیں کرتا۔ اور ہم ہمیشہ یقینی بے یقینی کی کیفیت میں ہی ڈولتے رہیں گے۔

جانے والے دوربہت دور جا چکے۔ بس ان کی یاد ہمارے دامن میں باقی ہے۔ جانے والے کبھی نہیں آتے، اے اللہ، ان کے لیےآگے کی مسافتیں آسان کر دینا اور ان کی یادوں کا سرمایہ سمیٹنے والوں کو بہت صبر دینا، بہت ہمت دینا۔ امین

کائنات بشیر
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s