دھند کے پار

دھند کے پار


میں نے جب بھی اپنے من کی کھڑکی کھولی تو پتہ چلا کہ آپ کی گزری زندگی کے پل، آپ کی یادیں ہمیشہ آپ کی ذات کا ایک حصہ ہی رہتے ہیں اور ان سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا۔


کیونکہ ان یادوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کبھی بچپن دوبارہ آنکھوں کے سامنے آیا تو کبھی لڑکپن، اور محسوس ہوا کہ عمر کے وہ پل کتنے انمول تھےاور یادوں کا وہ حصہ کتنا خالص تھا۔ نہ زمانے کی ریا کاری سے واسطہ تھا۔ نہ کسی اور چیز سے غرض، بس اس چھوٹی سی دنیا میں چھوٹی چھوٹی یادیں بھی بعض دفعہ دل کو کتنا خوش کر دیتی ہیں۔
یادیں اچھی ہوں یا بری، لیکن پھر بھی وہ ایک سائے کی طرح آپ کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ اور آپ کے ساتھ ہی زندگی کا سفرقدم بہ قدم طے کرتی ہیں۔

یاد میری خاموش ہم سفر،
تو ہر وقت میرے ساتھ ہوتی ہے۔ بے شک میں تجھے وقت دوں یا نہ دوں، مگر تو ہمیشہ میرا پلو تھامے رکھتی ہے۔ تیرا ساتھ مجھے کتنا پیارا ہے۔ اگر تو میرے ساتھ نہ ہوتی، اور وقت کے لمحوں کی طرح میرے ہاتھوں سے پھسل گئی ہوتیں تو میں کتنی تنہا ، اداس اور تہی دامن ہوتی۔ نہ گزرے وقت کی یادیں جگنو کی طرح میرے ماضی کی سکرین پرجگمگاتیں اور نہ میں حال کی پریشانی کو بھلا کر کبھی یادوں کی گود میں پناہ لے سکتی۔
ایسی کوئی بات نہیں سنو، میرے من کی کھڑکی سے چوری چوری جھانکنے والی،
کبھی کبھی میری اور تمہاری ٹھن بھی تو جاتی ہے۔
“یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا ”
دن کو میں ون اردو پر اپنی سہیلیوں سے گپ شپ میں لگی رہتی ہوں تو تم شائد جیلس ہو جاتی ہو اسی لیے جن یادوں سے میں اپنا واسطہ بھی نہیں رکھنا چاہتی تو، کبھی کبھی رات کے اندھیرے اور سناٹے میں وہ غیر محسوس طریقے سے تم میری جھولی میں ڈال دیتی ہو اور جب ان یادوں کی تلخی سے میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں تو۔۔۔ تم چپکے سے مسکرا دیتی ہو، جیسے تم نے میرے ساتھ کوئی دل لگی کی ہو۔
ویسے شرارتیں تو تمہیں خوب آتی ہیں۔ کبھی بچپن کو سامنے لا کھڑا کرتی ہو، جب میرا اور تمہارا ساتھ ابھی اتنا بنا بھی نہیں تھا لیکن میری وہ معصومیت بھری باتیں اور کچھ حماقتیں بھی تم نے محفوظ کر کے رکھ لیں تا کہ تم مجھے بعد کی لائف میں چڑا سکو اور اب مجھے کبھی کبھی یاد کروا کر خود مزے سے چھپ جاتی ہو۔ اور میں ان یادوں میں کھوئے کھوئے کبھی ہنڈیا جلا بیٹھتی ہوں، اور کبھی اسی بے خیالی میں منے کے کپڑے منی کو پہنانے لگ جاتی ہوں اور منی کا ہیر بینڈ منے کے بالوں میں لگانے کی کوشسش کرتی ہوں تب میرے صاحب عالم زیرلب مسکرا رہے ہوتے ہیں۔
لیکن،

اے میرے بچپن کی ڈور سے بندھی میری سنگی یاد،
پھر بھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ میں بے شک جتنا مرضی تمہیں اگنور کروں اور تو بھی مجھے کبھی خوشی کی یادوں کے جھولے جھلاتے جھلاتے ایک دم حال میں پٹخ دے۔ پھر بھی ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ چاہیئے۔ میں تمہارے بغیر آدھی ادھوری نہیں ہونا چاہتی۔ کبھی کبھی ہمیں جب لگتا ہے کہ ہمارا ساتھ بھی ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گا، تو اس بات کو سوچتے ہی ہم ایک دوسرے کے گلے لگ جاتی ہیں اور اپنا دکھ سانجھا معلوم ہونے لگتا ہے۔
اور میں پھر سے تمھیں گلے لگا کر اپنے دل میں چھپا لیتی ہوں کیونکہ


یادوں کا سہارا نہ ہوتا
ہم چھوڑ کے دنیا چل دیتے
یہ درد جو پیارا نہ ہوتا
ہم چھوڑ کے دنیا چل دیتے

*********

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s