صبح شام تیرا نام

لسّی کو پہلے پہلوانوں کا مشروبِ خاص سمجھا جاتا تھا۔ویسے کہنے میں حرج تو نہیں۔۔لسّی کی بدنامی کرنے میں پہلوانوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔۔ پہلے تو لسّی کے لیے بڑے بڑے لمبے گلاس منتخب کیے گئے( کیونکہ آج بھی چھوٹے گلاسوں میں لسّی پینے کا تصور نہیں) پھر لسّی میں مکھن کی ڈلی اور کھوئے کے پیڑے ڈال کر اسے اتنا مقوی بنا دیا گیا کہ عام انسان کی پہنچ سے دور کر دیا گیا۔۔وہ تو بھلا ہو شائقین کا جنہوں نے اپنا مطلوبہ ڈرنک جلد ہی تیار کر لیا۔پاکستان میں لاہور، گوجرانوالہ،فیصل آباد اپنی روایتی لسّی کی وجہ سے بھی شہرت میں رہتے ہیں۔

https://i1.wp.com/im.hunt.in/cg/Har/About/Tourism/food-5.jpg

کچھ چیزیں پورا سال روز مرہ کی روٹین میں ایسے شامل رہتی ہیں کہ ہم انھیں زندگی کا بس ایک جزو سمجھ کر چلتے رہتے ہیں ۔ نظر میں ہوتی ہیں اور نہیں بھی۔۔لیکن ماہِ رمضان آتے ہی ان کی قدرو قیمت از خود بڑھ جاتی ہے۔ سب ان کی طرف یوں متوجہ ہونے لگتے ہیں کہ،
صبح نہ آئی شام نہ آئی
کس دن تیری یاد نہ آئی

مکمل تحریر اس لنک کے ذریعے پڑھی جا سکتی ہے،

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=77013

مسافر خانہ

863342-800x600-[DesktopNexus.com]مسافر خانہ

سفر،مسافر ، مسافر خانہ کی اہمیت پچھلے دورسے وابستہ نظر آتی ہے جب سہولتوں کا فقدان تھا۔ منزل تک پہنچنے کے لیے کوس، فرلانگ، میل مسافر کے مختلف پڑاؤ تھے۔ انھی پڑاؤ پر اسے گزارے لائق مسافر خانے دستیاب ہوتے تھے۔ رات گزارنے کے لیے چھت کا مل جانا غنیمت لگتا ، ورنہ تپتی دوپہروں میں من مار کر چلنا اور چھاؤں کے لیے درختوں کے سائے کا ڈھونڈنا ، سفر واقعی سہل نہ تھا۔جبکہ آج سفر کو پُرلطف طریقوں سے گزارنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہل اسٹیشنوں پر ہوٹلوں کی صورت بڑے بڑے مسافر خانے خود بڑھ بڑھ کر لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔

اس لنک کے ذریعے پڑھنا جاری رکھ سکتے ہیں۔

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=70945